جموں//
جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا وقت نزدیک آ رہا ہے ۔
بخاری نے کہا کہ لوگوں کیلئے وہ وقت آگیا ہے جب انہیں ایک ایسا فیصلہ کرنا ہے جو جمہوریت کا سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے ۔
اپنی پارٹی صدر نے ان باتوں کا اظہار پیر کو سانبہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کیا’’اب یہاں الیکشن کا وقت نزدیک آنے والا ہے اس ہفتے الیکشن کمیشن دورہ کرنے والا ہے جن سے سیاسی لیڈر بھی اور افسران بھی ملیں گے ‘‘۔
بخاری کا کہنا تھا’’آپ لوگوں کیلئے وہ وقت آگیا ہے جب آپ کو فیصلہ کرنا ہے اور یہ فیصلہ جمہوریت کا سب سے بڑا فیصلہ ہوتا ہے ‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ آج کا جو ووٹ ہے وہ تاریخی ووٹ ہے کیونکہ۱۹۴۷میں ملک آزاد تو ہوا لیکن ہم نے اس وقت بھی اپنا فیصلہ ایک پارٹی کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔
بخاری نے کہا’’پانچ اگست۲۰۱۹کوہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کیا گیا اس میں گرچہ زیادہ کچھ بچا نہیں تھا لیکن ایک چیز ضرور تھی کہ ہمارے بچوں کی نوکریاں محفوظ تھیں‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ جب یہاں کے بچوں کیلئے صرف درجہ چہارم کی نوکریاں رکھنے کا فیصلہ لیا گیا تو اپنی پارٹی نے وہ فیصلہ واپس لینے میں کلیدی رول ادا کیا۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا’’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہاں جب صنعتی انقلاب آئے گا تو اس میں ہمارے۸۰ فیصد لوگ ہوں گے ‘‘۔انہوں نے کہا کہ جس انڈسٹری میں ہمارے۸۰لوگ نہیں ہوں گے ہم اس کو یہاں کام نہیں کرنے دیں گے ۔
بخاری نے کہا کہ جموں اور وادی کشمیر کے لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کو لیکر یک زباں ہیں۔ انہوں نے یہ بات دوہرائی کہ جموں وکشمیر کی زمین چاہئے وہ وراثتی اراضی ہے یا رقبہ سرکار، کاہچرائی اور جنگلات ، معدنی ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل ، وہ صرف اور صرف مقامی لوگوں کے ہیں۔
جموں اور کشمیر کے لوگوں کے درمیان اتحاد اور اہم آہنگی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدرنے کہا’’روایتی سیاستدان ہوس ِ اقتدار کی خاطر لوگوں کو علاقہ، مذہب، نسل اور دیگر بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔پچھلے ستر سالوں سے اِن نام نہاد سیاستدانوں نے لوگوں کو ہمیشہ اپنے سیاسی فائیدے کے لئے استعمال کیا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں خطوں کے لوگ اپنی دوروں کو مٹائیں۔ اپنے قانونی، جمہوری اور سیاسی حقوق کے تحفظ کیلئے ایک ہی صفحہ پر رہیں۔‘‘










