سرینگر/۲۷؍ اگست
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے جمعرات کو عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں کانگریس کی شمولیت کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونے تک کانگریس کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔
دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ اور حکمران جماعت کے سینئر لیڈر‘سریندر چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس جلد عمرعبداللہ کابینہ میں شامل ہو سکتی ہے ۔
قرہ نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ دو برس سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ ریاستی درجہ بحال ہونے تک ہم کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ نیشنل کانفرنس کی حکومت کی حمایت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کابینہ میں بھی شامل ہوں گے۔‘‘
جے کے پی سی سی صدر نے کہا کہ کانگریس نے نیشنل کانفرنس کی حکومت کو اس واحد مقصد کے تحت حمایت دی ہے کہ جموں و کشمیر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اور زمین، ملازمتوں اور قدرتی وسائل پر عوام کے حقوق کا تحفظ پارٹی کے اولین مطالبات میں شامل ہے۔
قرہ نے کہا کہ کانگریس بی جے پی اور تقسیم پیدا کرنے والی طاقتوں کے خلاف حکومت کی حمایت جاری رکھے گی، تاہم پارٹی عوام سے متعلق مسائل اٹھانے کا اپنا حق بھی محفوظ رکھے گی۔ انہوں نے کہا، ’’حمایت کا مطلب خاموشی نہیں ہے۔ کانگریس عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان مسائل پر آواز اٹھاتی رہے گی جو براہ راست ان سے متعلق ہیں۔‘‘
حالیہ بجلی نرخوں میں اضافے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جے کے پی سی سی صدر نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ کانگریس نے ابتدا ہی سے اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب صارفین پہلے ہی بڑھتے ہوئے بقایاجات اور بجلی منقطع کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
قرہ نے کہا، ’’بجلی کے نرخوں میں یہ اضافہ نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی درست۔ ایسے حالات میں صارفین پر مزید بوجھ ڈالنا عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کو عام صارفین کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینا چاہیے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی حمایت کا مطلب عوامی مسائل پر خاموش رہنا نہیں ہے۔
کم و بیش دو برس قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا، جس میں کانگریس کا کوئی رکن شامل نہیں تھا۔ نیشنل کانفرنس‘ جو انڈیا الائنس کا حصہ ہے، آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کی مخالف ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں این سی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے کانگریس کی حمایت سے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ اس کے بعد سے کانگریس حکومت کو باہر سے حمایت فراہم کر رہی ہے جبکہ کابینہ میں شامل ہونے کے معاملے پر اپنے امکانات کھلے رکھے ہوئے ہے۔
اس دوران جمعرات کو جموں و کشمیر امور کے انچارج اے آئی سی سی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید نذیر حسین نے کہا کہ کانگریس نے جموں و کشمیر میں وزراء کی کونسل میں شامل ہونے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ڈاکٹر حسین نے کہا کہ اس معاملے پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیشنل کانفرنس نے بدھ کے روز کانگریس سے ایک بار پھر رابطہ کرتے ہوئے اسے وزراء کی کونسل میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر میں کانگریس کی اکائی حکومت میں شامل ہونے کے خلاف نہیں ہے، تاہم وہ دو وزارتی عہدے چاہتی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پارٹی دوسرے وزارتی عہدے کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے اور اگر این سی کابینہ کا دوسرا عہدہ دینے پر آمادہ نہیں ہوتی تو کانگریس اپنے ایک اور رکن اسمبلی کے لیے کسی مناسب عہدے پر ایڈجسٹمنٹ چاہتی ہے۔
جموں و کشمیر کانگریس کی اکائی حکومت میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے درمیان ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دینے پر بھی زور دے رہی ہے، تاکہ فیصلہ سازی کے عمل میں پارٹی کا کردار یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے اپنی شرائط نیشنل کانفرنس کے ساتھ زیر بحث لائی ہیں اور اب این سی کے جواب کا انتظار ہے۔
دریں اثنا جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے جمعرات کو کہا کہ کانگریس چونکہ حکومت کی اتحادی جماعت ہے، اس لیے اسے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں شامل ہونے کا پورا حق حاصل ہے اور انہیں امید ہے کہ پارٹی اس سلسلے میں جلد فیصلہ کرے گی۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت میں کانگریس کی شمولیت کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
چودھری نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس نے واضح سوچ اور واضح نیت کے ساتھ اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی حکومت کا حصہ بھی بن جائے گی۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جب سے یہ حکومت تشکیل پائی اور ہم نے اتحاد قائم کیا، تب سے ہماری خواہش رہی ہے کہ کانگریس بھی حکومت میں شامل ہو۔ کچھ تاخیر ہوئی کیونکہ کانگریس اس سلسلے میں فیصلہ نہیں کر سکی، لیکن اب ہمیں امید ہے کہ وہ جلد حکومت میں شامل ہو جائے گی۔‘‘تاہم نائب وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ کانگریس کو ہی کرنا ہے۔
چودھری نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں شمولیت سے حکومت مزید مضبوط ہوگی اور اسے عوام کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کانگریس کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے کسی قسم کی ترغیب یا ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد باہمی مفاہمت اور اعتماد پر مبنی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم بی جے پی والے نہیں ہیں۔ ہم ترغیب دینے پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ دل کے رشتے ہیں اور دل سے کیے گئے فیصلے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں اور عوام کے مفاد میں ہوتے ہیں۔‘‘
چودھری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی سیاسی جماعتوں یا رہنماؤں کو اپنے ساتھ لانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ یا کسی قسم کی ترغیب دینے پر یقین نہیں رکھا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بجلی کے نرخوں کے معاملے پر حکومت کے ناقدین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ۱۲ برس کے دوران بجلی کے نرخوں اور بلوں میں ہونے والے اضافے کا موجودہ حکومت کی کارکردگی سے موازنہ کیا جائے۔
چودھری نے کہا، ’’گزشتہ۱۲ برس کے اعداد و شمار سامنے لائیے اور دیکھئے کہ بی جے پی کے دور میں بجلی کے نرخوں میں کتنا اضافہ ہوا، بجلی کے بل کس حد تک بڑھے اور کتنی مرتبہ ایمنسٹی دی گئی۔‘‘انہوں نے یہ بات تجارتی اور گھریلو صارفین کو دی جانے والی رعایتی یا ریلیف اسکیموں کے حوالے سے کہی۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک )










