ضرورت ہے کہا کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں بیرونِ ملک کام کرنے والے واپس لوٹ آئیں :وزیر اعلیٰ
سری نگر/۲۷ ؍اگست
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے کے لیے ایک متوازن اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید اور انتہائی خصوصی طبی سہولیات کی ترقی کے ساتھ ساتھ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر نظام کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
وہ آج شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں کوارٹرنری ہیلتھ کیئر اینڈ ریسرچ سمٹ، چوتھی جموں و کشمیر میڈیکل کانفرنس۲۰۲۶کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
تین روزہ سمٹ۲۵ سے۲۷؍ اگست تک شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے زیر اہتمام نیتی آیوگ، حکومت ہند کے تعاون سے منعقد ہوئی، جس میں اے آئی آئی ایم ایس نئی دہلی، پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ، اے آئی آئی ایم ایس جموں اور اے آئی آئی ایم ایس اونتی پورہ نے اسٹریٹجک شراکت داری کی۔ کانفرنس کا موضوع ’’ترشیری ہیلتھ کیئر کو کوارٹرنری ہیلتھ کیئر میں تبدیل کرنا: اعلیٰ طبی نگہداشت کے لیے قومی حکمت عملی‘‘ تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ طبی شعبہ مسلسل سیکھنے، جدت اور ترقی کا تقاضا کرتا ہے۔
کوارٹرنری ہیلتھ کیئر کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت کے اس چوتھے درجے کی ترقی سے انتہائی خصوصی علاج فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، تاہم محض ایک اعلیٰ درجے کا نظام قائم کرنے سے بڑے طبی اداروں پر موجود دباؤ ختم نہیں ہوگا جب تک پرائمری اور سیکنڈری سطح کے بنیادی مسائل دور نہ کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صورہ میڈیکل انسٹچوٹ جیسے ادارے بنیادی طور پر ریفرل اسپتال ہیں، جہاں انتہائی پیچیدہ اور خصوصی نوعیت کے علاج کے لیے مریض بھیجے جاتے ہیں۔ تاہم نچلی سطح پر سہولیات کی کمی کے باعث ایسے اسپتالوں کو بعض ایسے معمول کے آپریشن اور علاج بھی انجام دینا پڑتے ہیں جو بنیادی یا ثانوی سطح پر دستیاب ہونے چاہئیں۔
عمرعبداللہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پتہ اور اپینڈکس کے معمول کے آپریشن جیسے معاملات بھی بڑے اسپتالوں پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے صحت کے تین سطحی نظام، یعنی پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری ہیلتھ کیئر، کا بنیادی مقصد متاثر ہوتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نیتی آیوگ کے تحت منعقد ہونے والی کانفرنس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی آئی ایم ایس نئی دہلی، پی جی آئی ایم ای آر چندی گڑھ اور جموں و کشمیر کے طبی اداروں کی شرکت باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی شراکت داری کے لیے اہم موقع ہے۔
عمرعبداللہ نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے مباحثے مستقبل میں دیرپا تعاون میں تبدیل ہوں گے اور جموں و کشمیر کو۲۰۴۷تک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کے مطابق جدید طبی نظام کی تعمیر میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو جموں اور سری نگر کے دو بڑے شہری مراکز سے باہر دیہی علاقوں میں بھی معیاری بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی پر یکساں توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دیہی جموں و کشمیر میں صوری میڈیکل انسٹچوٹ جیسی سہولیات فراہم کرنا فوری ہدف نہیں، تاہم یہ ضرور یقینی بنایا جانا چاہیے کہ دونوں دارالحکومتوں سے باہر کے علاقوں کے عوام کو معیاری بنیادی طبی سہولیات میسر ہوں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ مضبوط پرائمری اور سیکنڈری صحت نظام کو جدید کوارٹرنری طبی نگہداشت کے ساتھ جوڑنے سے جموں و کشمیر اپنے عوام کی صحت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر کے مریضوں کو جدید علاج کے لیے باہر کے علاقوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صورہ میڈیکل انسٹچوٹ کا قیام ہی اس بنیادی مقصد کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ ضرورت مند مریضوں کو جموں و کشمیر میں بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ انسٹچوٹ کو ٹرشری سے کوارٹرنری سطح پر منتقل کرنے کے عمل میں حکومت اپنی مالی حدود کے اندر ادارے کو درکار بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی طبی ادارے کی صلاحیت میں بنیادی ڈھانچے کا اہم کردار ہوتا ہے، خاص طور پر ماہر طبی عملے کو راغب کرنے اور انہیں برقرار رکھنے میں۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے انسانی وسائل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں کے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرا میڈیکل عملہ کسی سے کم نہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تربیت یافتہ ڈاکٹر دنیا کے ہر براعظم میں خدمات انجام دے رہے ہیں، خاص طور پر خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں، اور بہت سے ماہرین سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی محدودیت کے باعث باہر مواقع تلاش کرنے پر مجبور ہوئے۔
وزیر اعلیٰ نے ’’ریورس برین ڈرین‘‘ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جہاں بیرونِ ملک کام کرنے والے جموں و کشمیر کے ڈاکٹر واپس آکر اپنے آبائی خطے کی طبی خدمات میں حصہ لے سکیں۔ان کے مطابق بہترین سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرکے نہ صرف ٹرشری اور کوارٹرنری ہیلتھ کیئر کو مضبوط کیا جا سکتا ہے بلکہ جموں و کشمیر میں ایک خود کفیل اور جدید صحت نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سمٹ سے سامنے آنے والی سفارشات کو محض نظری مشق تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس نے طبی اداروں، نیتی آیوگ، پالیسی سازوں، ڈاکٹروں اور محققین کو باہمی تعاون کا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں طبی خدمات اور جدید علاج میں حقیقی بہتری آئے گی۔
سمٹ میں ملک کے اہم طبی اداروں، ڈاکٹروں، محققین، پالیسی سازوں اور صحت کے ماہرین نے شرکت کی اور جدید طبی نگہداشت، تحقیق، ادارہ جاتی تعاون اور ٹرشری ہیلتھ کیئر کو کوارٹرنری ہیلتھ کیئر نظام میں تبدیل کرنے کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
۔۔۔۔۔۔(ڈی آئی پی آر)









