سرینگر//
ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ‘غلام نبی آزاد نے جمعرات کو کہا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات اگلے چھ ماہ کے اندر ہونے چاہئیں کیونکہ لوگ ۲۰۲۴ تک انتظار نہیں کر سکتے۔
آزاد نے کہا کہ جموں کشمیر کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے انتخابات کا انعقاد اہم ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں نامہ نگاروں کو بتایا’’ہم ۲۰۲۴ کا انتظار نہیں کرنا چاہتے۔ ہم پچھلے کئی سالوں سے تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔
آزادنے کہا کہ۲۰۱۸ میں جموں کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کی ضرورت نہیں تھی‘لیکن اس کے ہونے کے بعد، انتخابات چھ ماہ میں ہونے چاہیے تھے۔
سابق کانگریسی لیڈر نے کہا ’’جب یہ ہوا تھا، ریاست میں کوئی دہشت گردی نہیں تھی، کوئی تناؤ نہیں تھا، اور انتخابات چھ ماہ کے اندر ہونے چاہیے تھے۔ تاہم، تب سے لے کر اب تک تقریباً پانچ سال گزر چکے ہیں، بہت سی چیزیں ہوئیں، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا‘‘۔
آزادنے مزید کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی‘ اتنی پرانی ریاست کی تنزلی اور اس کی تقسیم جیسی چیزیں ہوئیں، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان پانچ سالوں میں ’’ناخوشگوار چیزیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہماری ریاست میں ہر لحاظ سے حالات بدتر ہو گئے‘‘۔
ڈی اے پی کے سربراہ نے کہا ’’پھر، کوئی نمائندہ نہیں، کوئی ایم ایل اے، کوئی وزیر، کوئی وزیر اعلیٰ نہیں، لوگ کہاں جائیں گے؟ نہ ڈاکٹر، نہ اساتذہ، نہ سڑکیں، نہ روزگار، عوام کس سے رجوع کریں گے۔ لہٰذا، یہاں ہر شخص مایوس ہے، خواہ وہ مزدور ہوں، نوجوان ہوں ‘ جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد منشیات میں مبتلا ہیں‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’’اس ریاست کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے کیلئے اگلے چھ مہینوں میں جب بھی موسم بہتر ہوگا انتخابات کرائے جائیں۔ ۲۰۲۴ بہت دور ہے‘‘۔
آزاد نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی انتخابات کے بعد اقتدار میں آتی ہے، تو’’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مقامی لوگوں کیلئے ملازمتیں اور زمین کے حقوق محفوظ ہوں‘‘۔
سابق کانگریسی لیڈر نے کہا کہ مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ’’لیکن اگر آپ اقتدار میں ہیں تو آپ طاقت کی پوزیشن سے مذاکرات کرتے ہیں، اس لیے انتخابات جیتنے سے ہمیں اپنے لوگوں کے لیے سودے بازی کے عزم کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔
آزاد نے کہا کہ ضلع کپواڑہ میں وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے مختصر دور میں منظور کیے گئے ترقیاتی پروجیکٹوں نے سرحدی علاقے کا بنیادی ڈھانچہ بدل دیا ہے۔
ڈی اے پی سربراہ کاکہنا تھا’’اس کے بعد سے، اقتدار میں رہنے والی کوئی بھی حکومت ترقی کی رفتار سے مماثل نہیں ہو سکی اور وہ تمام مراعات جو لوگ سہولیات سے حاصل کرتے ہیں وہ صرف میرے دور میں منظور کیے گئے یا ان پر عمل درآمد کیا گیا۔‘‘










