قیادت نے تمام ارکان اسمبلی سے بات چیت کی ‘میڈیا بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل پر توجہ دے: چودھری
سرینگر؍ ۷ نومبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے نیشنل کانفرنس کے بعض ارکان اسمبلی میں مبینہ ناراضگی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قیادت نے تمام متعلقہ ارکان اسمبلی کے ساتھ بات چیت کرکے معاملے کو حل کرلیا ہے۔
دیوالی کے موقع پر ہفتے کو باوے والی ماتا مندر میں حاضری دینے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام ارکان اسمبلی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے، اس لیے اس معاملے کو مزید طول دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت نے جمعہ کو سرینگر میں مبینہ طور پر ناراض ارکان اسمبلی کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ان ارکان اسمبلی کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ کابینہ میں شامل نہ کیے جانے کے باعث وہ ناراض ہیں۔ تاہم پارٹی قیادت نے اندرونی اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں کو بے بنیاد افواہیں قرار دیا تھا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارٹی صدر اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے تمام ارکان اسمبلی کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ نیشنل کانفرنس کے اندرونی معاملات کے بجائے جموں و کشمیر کو درپیش اہم عوامی مسائل کو اجاگر کرے۔
چودھری نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی تنازعات کو بار بار نمایاں کرنے سے بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوگا یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی ممکن ہوپائے گی؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ذرائع ابلاغ کا ایک طبقہ عوامی مسائل کے مقابلے میں سیاسی اختلافات کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے سابق چیف سیکریٹری اٹل ڈولو کی یکم نومبر کو سبکدوشی کے بعد انہیں ملازمت میں توسیع نہ دیے جانے اور جموں و کشمیر میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر مقامی نمائندگی کے معاملے کو بھی اٹھایا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر ملک کے دیگر حصوں میں بعض افسران کو ملازمت میں توسیع دی گئی تو اٹل ڈولو کو توسیع کیوں نہیں دی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈولو کو توسیع نہیں دینی تھی تو جموں و کشمیر میں چیف سیکریٹری کے عہدے پر کسی مقامی افسر کو تعینات کیا جاسکتا تھا، خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، کیونکہ وہ اسی خطے سے تعلق رکھتا۔
چودھری نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ آیا اس جماعت نے کبھی مقامی نمائندگی کے اس معاملے کو اٹھایا ہے؟ ان کا الزام تھا کہ بی جے پی جموں و کشمیر سے متعلق مخصوص مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے ایک طے شدہ بیانیے پر عمل پیرا ہے۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)








