سرینگر؍۷نومبر
جموں و کشمیر میں بے روزگاری کے سنگین مسئلے کے درمیان جموں و کشمیر بینک کی جانب سے کئی برس بعد ۱۳۵۶ اسامیوں پر بھرتی کے اعلان کا جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں نے خیرمقدم کیا ہے، وہیں درخواست دینے کے لیے عمر کی بالائی حد ۳۰ سال مقرر کیے جانے پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ بینک کی جانب سے طویل عرصے بعد بڑی تعداد میں اسامیاں مشتہر کیے جانے سے روزگار کے منتظر نوجوانوں میں امید پیدا ہوئی تھی، تاہم عمر کی مقررہ حد نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مایوس کردیا ہے جو ۳۰ سال کی عمر عبور کرچکے ہیں اور طویل عرصے سے ملازمت کے مواقع کا انتظار کررہے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق جموں و کشمیر بینک خطے کے ان اہم اداروں میں شامل ہے جس سے یہاں کے نوجوان روزگار کی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں جب کئی برس بعد ۱۳۵۶ اسامیاں مشتہر کی گئی ہیں تو عمر کی بالائی حد ۳۰ سال تک محدود رکھنے سے بڑی تعداد میں امیدوار ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں رہیں گے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ بے روزگاری کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عمر کی حد میں اضافہ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان بھرتی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔
اس معاملے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور پلوامہ سے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے عمر کی بالائی حد بڑھا کر ۴۰ سال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر بینک کی تازہ بھرتی نوٹیفکیشن میں پروبیشنری آفیسر اور بینکنگ ایسوسی ایٹ کی اسامیوں کے لیے ۲۰ سے ۳۰ سال کی عمر مقرر کیے جانے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں پرہ نے کہا کہ عمر کی یہ پابندی ان ہزاروں امیدواروں کے لیے باعث تشویش ہے جو برسوں سے ان امتحانات کی تیاری کررہے تھے اور ملازمت کے مواقع کا انتظار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ امیدواروں کو ۴۰ سال کی عمر تک بھرتی کے عمل میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے تو جموں و کشمیر بینک کے امیدواروں کے لیے عمر کی حد ۳۰ سال کیوں مقرر کی گئی ہے؟
پرہ نے مطالبہ کیا کہ بینک بھرتی کے لیے عمر کی بالائی حد بڑھا کر ۴۰ سال کی جائے اور بھرتی کے عمل میں ریزرویشن پالیسی پر بھی نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت کے حصول کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
ادھر سابق رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی جموں و کشمیر بینک کی بھرتی میں اوپن میرٹ امیدواروں کے ساتھ انصاف یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں مہدی نے ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی اور عمر کی بالائی حد میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھرتی کا عمل مساوی مواقع اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر بینک نے حال ہی میں مجموعی طور پر ۱۳۵۶ اسامیوں کے لیے بھرتی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جن میں ۳۲۳ پروبیشنری آفیسر اور ۱۰۳۳ بینکنگ ایسوسی ایٹ کی اسامیاں شامل ہیں۔ ان آسامیوں کے لیے آن لائن درخواستیں ۷ نومبر سے ۲۶ نومبر ۲۰۲۶ تک جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
عمر کی حد اور ریزرویشن پالیسی کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات پر جموں و کشمیر بینک کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









