سرینگر؍۲۹ ؍اکتوبر
نیشنل کانفرنس سے ناراض لوک سبھا رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے استعفے کے اعلان سے قبل پارٹی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اجتماعی طور پر دھوکہ کیا اور آرٹیکل۳۷۰ کی بحالی کی جدوجہد سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔
۳ نومبر کو پارٹی اور سرینگر کی لوک سبھا نشست سے استعفیٰ دینے کے اپنے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ اصولوں اور انتخابی وعدوں کے بجائے ’’آرام دہ سیاست‘‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔
روح اللہ نے کہا کہ جب سے انہوں نے پارٹی اور پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، تب سے صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ استعفے کے لیے منتخب کی گئی تاریخ ان کے لیے ذاتی اور اخلاقی اعتبار سے گہری اہمیت رکھتی ہے۔
این سی رکن پارلیمنٹ نے کہا ’’۳نومبر میرے والد مرحوم آغا سید مہدی کی برسی ہے، جنہیں اسی دن قتل کیا گیا تھا۔ ان کی میراث میری سیاست، میری جدوجہد اور میرے اخلاقی اصولوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ علامتی طور پر یہ دن میری زندگی کی سمت کا تعین کرتا ہے۔‘‘
روح اللہ نے مزید کہا کہ استعفے میں مختصر تاخیر کا ایک مقصد انہیں اپنے رکن پارلیمان کے مقامی ترقیاتی فنڈز (ایم پی ایل اے ڈی ایس) کی رقم عوامی ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کرنے کا موقع فراہم کرنا بھی تھا۔
سرینگر کی لوک سبھا نشست خالی کرنے کے فیصلے کو اپنے حلقۂ انتخاب کے عوام سے دستبرداری قرار دینے والے ناقدین کو مسترد کرتے ہوئے روح اللہ نے کہا کہ۲۰۲۴ کے انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس کے سیاسی مؤقف میں تبدیلی نے انہیں شدید مایوس کیا ہے۔
روح اللہ نے کہا، ’’مجھے تنہا نہیں بلکہ اجتماعی طور پر دھوکہ دیا گیا۔ ہم نے عوام سے ایک وعدہ کیا تھا، لیکن انتخابات جیتنے کے بعد ان وعدوں سے منہ موڑ لیا۔ جس مستقل مزاجی اور پختہ یقین کے ساتھ میں نے جدوجہد کی، اسی پر میری اپنی پارٹی نے سوالات اٹھائے اور میری جدوجہد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی۔‘‘
این سی لوک سبھا کے ممبر کے مطابق پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات اس وقت شدت اختیار کرگئے جب اعلیٰ قیادت نے واضح طور پر ان سے الگ ہونے کو کہا۔
روح اللہ نے الزام لگایا، ’’جب پارٹی کا سربراہ آپ سے استعفیٰ دینے اور اسے ہر قسم کی جواب دہی سے آزاد کرنے کے لیے کہتا ہے تو پھر آپ کو فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ آرٹیکل۳۷۰ بحال ہوسکتا ہے تو مجھے جا کر اس کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ تو اس جدوجہد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اپنے وعدوں کے لیے جواب دہ ہونا چاہتے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر حکومت کے دو سالہ رپورٹ کارڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمان نے حکومت کی سیاسی اور انتظامی کامیابیوں کے دعوؤں کو مسترد کردیا۔
روح اللہ نے کہا’’ ۲۰۲۴میں انہوں نے خصوصی درجے کی بحالی کے مطالبے پر ایک قرارداد منظور کی، لیکن دو سال بعد ایک اور قرارداد منظور کرکے پہلے مؤقف کو کمزور کردیا۔ انہوں نے صرف دو سال کے اندر اپنے ہی مؤقف کو نرم کردیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ان کے سربراہ عمر عبداللہ نے ریکارڈ پر کئی مرتبہ کہا کہ ان کی جدوجہد صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ہے، جبکہ وہ ان آئینی تحفظات کو بھول گئے جو آرٹیکل۳۷۰نے ہمیں فراہم کیے تھے۔‘‘
روح اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ساتھ رکن پارلیمان کی حیثیت سے گزارے گئے دو برسوں میں ان کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پارٹی کے لوگوں پر محض ان کی ظاہری باتوں کی بنیاد پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
اپنے ناقدین کی جانب سے اس فیصلے کو ممکنہ ’’سیاسی غلطی‘‘ قرار دیے جانے کے سوال پر روح اللہ نے کہا کہ انہیں انتخابی حساب کتاب یا مادی فوائد کی فکر نہیں ہے۔
مستقبل کے لائحۂ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے والے رکن پارلیمان نے کہا کہ وہ زمینی سطح پر عوام کے درمیان واپس جانا اور اصولوں پر یقین رکھنے والی ایک وسیع تر سیاسی قوت تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
روح اللہ نے کہا، ’’میں عوام کے درمیان واپس جانا چاہوں گا اور ایسے ہم خیال لوگوں کو تلاش کرنا چاہوں گا جو اصولوں پر یقین رکھتے ہوں اور پختہ عزم کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔‘‘
دیگر علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکان سے متعلق سوال پر روح اللہ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی حقوق اور وقار کی بحالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر ممکن راستے پر غور کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)









