سرینگر؍۲۹؍اکتوبر
ڈائریکٹر اطلاعات ممتا یادو نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کو جلد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پالیسی کا مسودہ فی الحال زیرِ غور ہے اور اس میں فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی شامل کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
ممتا یادو نے کہا کہ محکمہ مسودے کی جانچ کے دوران اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’کسی بھی پالیسی کی تیاری کے لیے ایک طریقۂ کار ہوتا ہے۔ ہم نے مسودہ بھیج دیا ہے اور اس پر اٹھائے جانے والے سوالات کے مسلسل جواب دے رہے ہیں۔‘‘
ڈائریکٹر اطلاعات نے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں ان پہلوؤں کو بھی شامل کیا جائے گا جو موجودہ نظام کا حصہ نہیں ہیں، خصوصاً ابلاغ اور عوامی رابطہ مہمات میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کو مدنظر رکھا جائے گا۔
ممتا نے کہا، ’’آج سوشل میڈیا کا دائرہ کافی وسیع ہو چکا ہے اور انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہم نے نئی پالیسی میں ان پہلوؤں کو بھی شامل کیا ہے۔‘‘
مجوزہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے خزاں اجلاس کے دوران غیر منضبط سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی تعداد، آن لائن ہراسانی اور گمراہ کن مواد کی تشہیر کے معاملے پر بحث ہوئی تھی۔
۳۰ ستمبر۲۰۲۶ کو وزیر تعلیم و صحت سکینہ ایتو نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت نئی میڈیا پالیسی پر کام کر رہی ہے اور محکمہ اطلاعات کو رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
یہ معاملہ نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی بشیر احمد شاہ ویری نے اٹھایا تھا، جنہوں نے سوشل میڈیا کے مبینہ غلط استعمال اور عوامی نمائندوں کے خلاف آن لائن حملوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
کئی ارکان اسمبلی نے سوشل میڈیا کے لیے ضابطہ جاتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بعض ارکان نے خبردار کیا کہ ایسی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے جو صحافتی آزادی کو متاثر کرسکتی ہیں۔
وزیر سکینہ ایتو نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے لیے صرف ذرائع ابلاغ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سیاسی عناصر بھی اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والے مواد کے حوالے سے زیادہ جواب دہی کی ضرورت پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









