سرینگر؍۲۹؍ اکتوبر
دربار موو کے پیش نظر سرینگر۔جموں قومی شاہراہ پر اس ہفتے کے اختتام پر دو روز تک ٹریفک پابندیاں عائد رہیں گی تاکہ سیکریٹریٹ ملازمین کے قافلے کی جموں منتقلی کے دوران آمدورفت کو ہموار اور بلا رکاوٹ بنایا جاسکے۔ حکام نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
جموں و کشمیر حکومت نومبر کے پہلے ہفتے میں سرمائی دارالحکومت جموں منتقل ہوجائے گی۔ دربار موو کی اس روایت کے تحت حکومت چھ ماہ تک جموں اور موسمِ گرما کے دوران سرینگر سے کام کرتی ہے۔
پانچ روزہ ہفتہ وار نظام کے تحت کام کرنے والے سرکاری دفاتر جمعہ کو سرینگر میں بند ہوجائیں گے، جبکہ چھ روزہ ہفتہ وار نظام کے تحت کام کرنے والے دفاتر ہفتے کے روز بند ہوں گے۔
حکام کے مطابق، سیکریٹریٹ ملازمین کے قافلے کی سرینگر سے جموں تک ہموار اور بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے قومی شاہراہ پر مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ۳۱؍ اکتوبر اور یکم نومبر کو ادھم پور کے جکھینی سے سرینگر کی جانب مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام نے مزید کہا کہ۳۱؍ اکتوبر اور یکم نومبر کو رات دو بجے کے بعد جکھینی (ادھم پور) سے رام بن، بانہال اور سرینگر سمیت دیگر علاقوں کی جانب، اسی طرح قاضی گنڈ سے بانہال، رام بن اور ادھم پور سمیت دیگر علاقوں کی طرف مال بردار گاڑیوں کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تاہم، قاضی گنڈ سے جموں کی جانب جانے والی بھاری موٹر گاڑیوں (ایچ ایم وی) کو ضابطہ بند طریقے سے چلنے کی اجازت ہوگی۔
حکام نے مال بردار گاڑیوں کے آپریٹروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹریفک پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تازہ اور جلد خراب ہونے والی اشیا اور مویشیوں کی نقل و حمل کے لیے اپنی گاڑیوں میں سامان اسی حساب سے لوڈ کریں۔
تمام سرکاری دفاتر۲ نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلنے والے ہیں۔
دربار موو کی روایت کے تحت حکومت سردیوں کے چھ ماہ جموں اور گرمیوں کے دوران سرینگر سے کام کرتی ہے۔ اس روایت کا آغاز مہاراجہ رنبیر سنگھ نے۱۸۷۲ میں کیا تھا تاکہ دونوں خطوں میں شدید موسمی حالات سے بچا جاسکے۔
آزادی کے بعد بھی یہ روایت جاری رہی، جس کا مقصد جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں چھ چھ ماہ تک انتظامی امور کی انجام دہی کو یقینی بنانا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر راج کے دوران۲۰۲۱ میں دارالحکومت کی منتقلی کا سلسلہ بند کردیا گیا تھا، تاہم عمر عبداللہ کے وزیر اعلیٰ بننے کے ایک سال بعد۲۰۲۵ میں اس روایت کو دوبارہ بحال کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)









