سرینگر؍۲۹؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعرات کو بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو ’’ستیش عبداللہ‘‘ کہتی تھی، وہ اب انہیں کابینہ سے ہٹائے جانے پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔
نیشنل کانفرنس حکومت پر جموں خطے کے ہندو رہنماؤں کو نظرانداز کرنے کے بی جے پی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے چودھری نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ماضی میں انہیں اور ستیش شرما کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور دونوں کو ’’جئے چند‘‘ یعنی غدار تک قرار دیا گیا تھا۔
ریلوے اسٹیشن کے قریب آتشزدگی سے متاثرہ مارکیٹ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’مجھے افسوس ہے کہ ستیش شرما اب ہماری کابینہ کا حصہ نہیں رہے۔ وہ کل تک حکومت میں میرے ساتھی تھے۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بی جے پی ان کی برطرفی پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے، جبکہ یہی جماعت ستیش شرما کو ’ستیش عبداللہ‘ اور مجھے ’سریندر عبداللہ‘ کہا کرتی تھی۔‘‘
نائب وزیرا علیٰ نے الزام لگایا، ’’اگر بی جے پی کو ہم سے اتنا ہی اعتراض تھا تو اب ستیش شرما کو کابینہ سے ہٹائے جانے پر تشویش کیوں ظاہر کر رہی ہے؟ جموں میں بی جے پی نے ستیش شرما اور سریندر چودھری، دونوں کو کابینہ سے باہر کروانے کی کوشش کی تھی۔‘‘
چودھری نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں کابینہ میں برقرار رکھا اور نائب وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان پر اعتماد قائم رکھا۔
نائب وزیرا علیٰ نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس نے ایک ہندو رہنما کو نائب وزیر اعلیٰ مقرر کرکے جموں کو عزت اور احترام دیا۔ وزیر اعلیٰ کے بعد نائب وزیر اعلیٰ حکومت میں دوسرے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوتا ہے۔‘‘
بی جے پی کے چیف ترجمان سنیل سیٹھی کے اس الزام کا حوالہ دیتے ہوئے کہ نیشنل کانفرنس اب ’’مسلم کانفرنس‘‘ بن چکی ہے، چودھری نے بی جے پی کے سیکولرزم اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے دعوؤں پر سوال اٹھایا۔
چودھری نے کہا، ’’بی جے پی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی بات کرتی ہے۔ میں اس جماعت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس نے ملک بھر میں اپنی حکومتوں یا مرکزی حکومت میں کسی ایک مسلمان کو وزیر، وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ مقرر کیا ہے؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ وضاحت کرے کہ جب نیشنل کانفرنس نے جموں سے ہندو نمائندوں کو منتخب کیا اور انہیں نائب وزیر اعلیٰ مقرر کیا تو پھر پارٹی کی نمائندگی پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔
چودھری نے اپنی جاٹ برادری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاٹ ہونا انہیں ہندو یا ڈوگرہ ہونے سے محروم نہیں کرتا۔انہوں نے کہا، ’’کیا سریندر چودھری ہندو نہیں ہے؟ کیا جاٹ ہندو نہیں ہوتا؟ اگر میں ہندو نہیں ہوں تو بی جے پی وضاحت کرے کہ وہ کن برادریوں کو ہندو مانتی ہے اور کن ذاتوں کو سناتن دھرم کا حصہ تسلیم کرتی ہے۔‘‘
نائب وزیرا علیٰ نے مزید کہا، ’’میں ماتا ویشنو دیوی کا بھگت اور ماتا درگا کا عقیدت مند ہوں۔ آج میں جس مقام پر پہنچا ہوں، میرا یقین ہے کہ یہ سب ان کی کرپا سے ممکن ہوا ہے۔ کل کیے گئے تبصروں سے مجھے تکلیف پہنچی ہے، کیونکہ ان میں پوری جاٹ برادری کو سوالات کے دائرے میں لایا گیا۔‘‘
چودھری نے ڈوگرہ برادری کے مہاراجہ ہری سنگھ کے دورِ حکومت سے تاریخی تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں جاٹ برادری کے افراد نے بھی خدمات انجام دی تھیں۔
انہوں نے ڈوگرہ شناخت کے معاملے پر بی جے پی کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ جموں میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی، سب ڈوگرہ ہوسکتے ہیں۔
چودھری نے سوال کیا، ’’اگر جموں میں مذہب سے قطع نظر ہر شخص کو ڈوگرہ کہا جاسکتا ہے تو پھر ایک جاٹ رہنما کی ہندو اور ڈوگرہ شناخت پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے بی جے پی ترجمان سنیل سیٹھی کے بیانات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سابق رکن اسمبلی کرشن دیو سیٹھی سے اپنے خاندانی تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ابتدائی دور میں ان کی عزت کرتے تھے اور ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔
چودھری نے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر بی جے پی سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور پارٹی رہنماؤں کے اثاثوں کے ذرائع پر بھی سوال اٹھائے۔
نائب وزیرا علیٰ نے کہا، ’’اگر بی جے پی میں ہمت ہے تو وہ ان رہنماؤں کے نام بتائے جنہوں نے۲۰۱۴ کے بعد دولت جمع کی، اسٹون کرشر اور کارخانے قائم کیے، گاڑیاں اور مشینری حاصل کی یا بڑے بڑے مال کھولے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے بی جے پی کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔‘‘
چودھری نے بی جے پی پر جموں کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے شیوا مارکیٹ میں آتشزدگی کے واقعے پر پارٹی کے ردعمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ توجہ ان تاجروں کی مشکلات اور نقصانات پر مرکوز رہنی چاہیے جن کی دکانیں آگ کی نذر ہوگئیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے چار نئے وزرا کو شامل کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی کے اندر ناراضگی اور احتجاج سامنے آئے، جبکہ اپوزیشن بی جے پی نے کابینہ میں ’’علاقائی اور ثقافتی عدم توازن‘‘ کا الزام لگایا۔
چاروں نئے وزرا کا تعلق کشمیر سے ہونے کے باعث نو رکنی کابینہ میں وادی کی نمائندگی بڑھ کر سات ہوگئی ہے، جبکہ جموں خطے کی نمائندگی نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور جاوید رانا تک محدود رہ گئی ہے۔
چھمب سے آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو نئے وزرا کی شمولیت کے لیے کابینہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









