سرینگر؍۲۶؍اکتوبر
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے صرف۳ فیصد سے کچھ زیادہ گلیشیئرز، جو جھیلوں، سمندروں یا برفانی شیلف پر ختم ہوتے ہیں، عالمی سطح پر گلیشیئرز کی برف کے مجموعی نقصان میں نصف سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ان گلیشیئرز نے۲۰۰۰ سے۲۰۱۹کے درمیان ہر سال اوسطاً۱۳۴؍ ارب ٹن برف کھوئی۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم اور یونیورسٹی آف لیڈز کی قیادت میں ماحولیاتی سائنس دانوں نے پایا کہ جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز عموماً خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں اقسام مجموعی طور پر دنیا کے گلیشیئرز کے نصف سے زیادہ رقبے پر محیط ہیں۔
نیچر کمیونیکیشنز نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جھیلوں اور سمندروں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز، خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں اوسطاً بالترتیب۱۰؍اور۴۴ فیصد زیادہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح اپنے حجم کے تناسب سے جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز، خشکی پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں تقریباً۵۷ فیصد زیادہ برف کھوتے ہیں۔
تحقیق کے مصنف جوزف مالالیو نے کہا، ’’جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز نمایاں طور پر تیزی سے برف کھو رہے ہیں۔ ابھی ہمیں پوری طرح معلوم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں خود جھیلوں، گلیشیئرز کے حجم اور شکل یا ان تمام عوامل کا کردار ہو۔ اس کی وجوہات کا تعین کرنا اگلا بڑا سوال ہے، خاص طور پر اس لیے کہ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے ساتھ گلیشیئر جھیلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘‘
محققین نے وضاحت کی کہ جھیلیں مختلف طریقوں سے گلیشیئرز کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں برف کا نقصان بڑھ سکتا ہے۔
ان کے مطابق، جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز کے اگلے حصے سے برف کے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر آئس برگ کی صورت میں الگ ہو سکتے ہیں۔ اس عمل کو ’’کیلفنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جھیل کا پانی سطح کے نیچے موجود برف کو پگھلا سکتا ہے، جس سے برف کے نقصان کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
محققین نے کہا کہ گلیشیئرز میں تبدیلیوں کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہونے والے ماڈلز میں جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز کو ابھی تک مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، تحقیق میں تیار کی گئی گلیشیئرز کی نئی درجہ بندی اس کمی کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے دوسرے محققین سطحِ سمندر میں اضافے، آبی وسائل اور قدرتی خطرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو بہتر بنا سکیں گے۔
محققین نے بتایا کہ اگرچہ جھیلوں، سمندروں اور برفانی شیلف پر ختم ہونے والے گلیشیئرز دنیا کے مجموعی گلیشیئرز کا صرف۳ء۲ فیصد ہیں، لیکن عالمی سطح پر گلیشیئرز کے کل رقبے اور برفانی کمیت کے نقصان میں ان کا حصہ نصف سے زیادہ ہے۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز دنیا کے تمام بڑے گلیشیائی خطوں میں موجود ہیں اور بیشتر علاقوں میں یہ خشکی یا سمندروں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے برف کھو رہے ہیں۔
مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کی اقسام میں تبدیلی آ رہی ہے۔ آرکٹک کے بعض علاقوں میں سمندروں میں ختم ہونے والے گلیشیئر پیچھے ہٹ کر خشکی پر ختم ہونے لگے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں گلیشیئر جھیلوں کے پھیلاؤ کے باعث خشکی پر ختم ہونے والے بعض گلیشیئر اب جھیلوں میں ختم ہو رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں کے مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خشکی کی جانب پیچھے ہٹنے والے گلیشیئرز میں برف کے نقصان کی رفتار کم ہونے کا امکان ہے، جبکہ نئے سرے سے جھیلوں میں ختم ہونے والے گلیشیئرز زیادہ تیزی سے برف کھو سکتے ہیں۔
محققین نے اپنے مقالے میں لکھا کہ نتائج اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ گلیشیئرز کے ارتقا اور سطحِ سمندر میں اضافے کے ماڈلز میں خشکی کے علاوہ دیگر مقامات پر ختم ہونے والے گلیشیئرز کو بہتر انداز میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلیشیئرز کی حرکت پر ان کے اختتامی مقامات کے ماحولیاتی اور ساختی عوامل کے اثرات کو الگ الگ سمجھنا مستقبل کی تحقیق کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









