’سبھی وزراء نے اپنے استعفے پیش کر دئے‘ اب یہ وزیر اعلیٰ پر منحصر ہے کہ وہ انہیں منظوری کیلئے لوک بھون بھیجتے ہیں یا نہیں ‘
سرینگر؍۲۶؍ اکتوبر
جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ حکومت کی تشکیل کے دو سال بعد منگل کو کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو حلف برداری کی تقریب کے لیے ارکان اسمبلی کو دعوت نامے بھیجے۔
توسیع سے قبل حکومت میں شامل سبھی وزراء نے اپنے استعفے پیش کئے ۔
ایل جی سنہا کی طرف سے حلف برداری کادعوت نامے عمر عبداللہ کی جانب سے ہفتے کے روز سرینگر کے لوک بھون میں منوج سنہا سے ملاقات کے بعد جاری کیے گئے۔ ملاقات میں حکمرانی سے متعلق امور اور وزراء کی کونسل میں توسیع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمر عبداللہ نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے باضابطہ طور پر لیفٹیننٹ گورنر سے درخواست کی ہے کہ اگلے ہفتے کے پہلے دو دنوں میں کابینہ کی توسیع کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ عمر کی یہ ملاقات جمعرات کو صحت کی وجوہات کی بنا پر عارضی غیر حاضری کے بعد منوج سنہا کی جموں و کشمیر واپسی کے فوراً بعد ہوئی۔ اس سے قبل نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے اشارہ دیا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی سرینگر واپسی کے بعد ہی کابینہ میں توسیع کا عمل آگے بڑھے گا۔
سنہا سے ملاقات کے بعد عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ وزراء کی کونسل میں شامل کیے جانے والے نئے ارکان کی فہرست پہلے ہی تیار کر لی گئی ہے اور ناموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’فاروق عبداللہ سے مشاورت کے بعد فہرست تیار ہو چکی ہے۔ اب مجھے یا فاروق عبداللہ کو پریشان کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ وزیر کون بنے گا، اس کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ میں اپنے ساتھیوں سے صبر کرنے کی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور طویل خطوط موصول ہو رہے ہیں، گویا میں انہیں (ارکان اسمبلی کو) جانتا ہی نہیں ہوں۔ براہِ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پر کچھ بھیجیں اور نہ فون کریں۔ میرے دروازے پر دستک نہ دیں۔ اگلے دو سے تین دن میں کابینہ میں ردوبدل ہو جائے گا۔‘‘
کئی سینئر ارکان اسمبلی کو کابینہ میں جگہ ملنے کی امید ہے۔ اس معاملے سے واقف افراد کے مطابق، وزیر اعلیٰ کے لیے تمام امیدواروں کو کابینہ میں شامل کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ صرف تین وزارتوں کے لیے کئی دعوے دار ہیں۔
مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت میں۹۰ رکنی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کے۱۰ فیصد کے حساب سے کابینہ میں زیادہ سے زیادہ نو وزارتی عہدے ہو سکتے ہیں۔ اب تک کابینہ میں وزیر اعلیٰ اور ان کے پانچ وزراء شامل ہیں، جن میں تین جموں اور دو کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان وزراء نے۱۶؍ اکتوبر۲۰۲۴ کو حلف اٹھایا تھا۔
اس سے قبل اس پیش رفت سے واقف افراد نے اشارہ دیا تھا کہ خالی وزارتوں کو پُر کرنے کے علاوہ، جماعت کے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے اور جموں و کشمیر کے درمیان علاقائی نمائندگی کا تناسب قائم رکھنے کے لیے موجودہ وزراء کی کونسل کے دو ارکان کو ہٹایا یا ان کے محکمے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
ممکنہ طور پر کابینہ میں شامل کیے جانے والوں میں اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کا نام بھی شامل ہے۔ سات مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے راتھر کو مالیاتی امور کا تجربہ حاصل ہے اور انہیں کابینہ میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آئینی طریقۂ کار کے تحت، وزارت کا حلف اٹھانے سے قبل راتھر کو اسمبلی اسپیکر کے عہدے سے باضابطہ استعفیٰ دینا ہوگا۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما مبارک گل کو ان کی جگہ اسپیکر بنائے جانے کا ممکنہ امیدوار بتایا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے نیشنل کانفرنس اپنی انتخابی اتحادی جماعت کانگریس کو کابینہ میں وزارت دینے کی پیشکش کرتی رہی ہے۔ تاہم، کانگریس نے وزارت قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال ہونے تک حکومت کو باہر سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس دوران کابینہ میں توسیع اور رد و بدل سے قبل نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کے تمام وزراء نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پانچوں وزراء نے وزیر اعلیٰ کو اپنے استعفے سونپ دیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا، ’’وزراء نے اپنے استعفے پیش کر دیے ہیں۔ اب یہ وزیر اعلیٰ پر منحصر ہے کہ وہ انہیں برقرار رکھتے ہیں یا استعفے منظوری کے لیے لوک بھون بھیجتے ہیں۔‘‘
ذرائع نے واضح کیا کہ استعفے پیش کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وزراء کو کابینہ سے لازماً ہٹا دیا جائے گا۔
ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ فیصلہ کریں گے کہ کن وزراء کے استعفے لوک بھون بھیجے جائیں گے اور کنہیں عہدوں پر برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح سرینگر کے لوک بھون میں تین سے چار ارکان اسمبلی کو وزیر کے عہدے کا حلف دلائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ایک وزیر کو کابینہ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
اس دورا ن نیشنل کانفرنس کے عہدیداروں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کی کابینہ میں توسیع منگل کے روز سرینگر میں ہوگی۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے پیر کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے وزراء کی حلف برداری کی تقریب منگل کی صبح ساڑھے دس بجے منعقد ہوگی۔
صادق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت پارٹی قیادت کابینہ میں شامل کئے جانے والے نئے چہروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔
این سی ترجمان اعلیٰ نے مزید کہا، ’’میرا خیال ہے کہ آج شام تک یہ واضح ہو جائے گا کہ کل کون کون حلف اٹھائے گا۔‘‘
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق متنازع بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ ان کے بیان کو ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘ پیش کیا گیا ہے۔
حکمران جماعت کے ترجمان اعلیٰ نے کہا، ’’اگر آپ پوری تقریر سنیں تو انہوں نے واضح کیا ہے کہ قبائلی حملہ آور یہاں کیسے آئے اور پڑوسی ملک کی جانب سے جموں و کشمیر کے خلاف کس طرح ناانصافیاں ہوئیں۔‘‘
تنویر صادق نے الزام لگایا کہ بی جے پی تقریر کے ایک حصے کو الگ کرکے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے معمولی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









