مہاراجہ ہری سنگھ کا فیصلے تاریخی تھا:ٹھاکر/ جموں کشمیر کا ملک سے رشتہ اعتماد، سیکولرازم اور آئینی ضمانتوں پر قائم ہوا تھا:محبوبہ
سرینگر؍۲۶ اکتوبر
جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی۷۹ یں سالگرہ کے موقع پر پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جشن منایا، جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے الحاق کے وقت کئے گئے وعدوں کو یاد کرتے ہوئے خطے کے حقوق اور وقار کی بحالی پر زور دیا۔
بی جے پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے سرینگر میں پارٹی دفتر پر جمع ہوکر مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے۲۶ اکتوبر۱۹۴۷ کو بھارت کے ساتھ الحاق کے فیصلے کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔
بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے اس دن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ ایک دور اندیش حکمران تھے، جنہوں نے محسوس کیا کہ بھارت کے ساتھ رہنے سے جموں و کشمیر کے عوام کا مستقبل محفوظ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مہاراجہ نے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ الحاق کیا۔ ان کے مطابق بعض عناصر نے دو قومی نظریے کو مسلط کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے۔
دوسری جانب، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ملک کے عوام پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے وقت کئے گئے وعدوں کو یاد کریں۔ سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ رشتہ اعتماد، سیکولرازم اور آئینی ضمانتوں پر قائم ہوا تھا، لیکن ان کے بقول آج ان ضمانتوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا، ’’میں ملک کے تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ ہم نے ایسے بھارت کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا جو گاندھی، نہرو اور امبیڈکر کا بھارت ہے، جس نے ہمیں تمام حقوق دیے تھے، لیکن آج ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میری درخواست ہے کہ وہ اس بات کو یاد رکھیں۔ یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔‘‘
مہاراجہ ہری سنگھ نے۲۶؍ اکتوبر۱۹۴۷ کو دستاویزِ الحاق پر دستخط کئے تھے، جسے بھارت کے اُس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے۲۷؍اکتوبر۱۹۴۷کو قبول کیا تھا، جس کے بعد سابق شاہی ریاست کا بھارت سے الحاق باضابطہ طور پر مکمل ہوا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ شامل ہوا، کیونکہ یہاں کے لوگوں نے ملک کی سیکولر قیادت پر اعتماد کیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ ان کی منفرد شناخت اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دستاویزِ الحاق اور اس کے بعد کئے گئے آئینی انتظامات میں خطے کی شناخت، زمین اور روزگار کے مواقع کے تحفظ سے متعلق یقین دہانیاں شامل تھیں۔ ان کے مطابق، جموں و کشمیر کے لوگوں نے مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت پر اعتماد کیا تھا، جنہوں نے بھارت کو ایک سیکولر ملک کے طور پر دیکھا جہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔
محبوبہ نے کہا کہ حکومت کو جموں و کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور جمہوری روابط کو فروغ دینا چاہئے۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقطۂ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے اصولوں کے تحت حل کیا جانا چاہئے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اگر آپ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو اسے گھسیٹیں نہیں۔ اسے ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ گھسیٹیں، بلکہ اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے اپنے ساتھ چلنا سکھائیں۔‘‘
محبوبہ نے ملک بھر کے عوام پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لیں اور خطے کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر کے رشتے کی بنیاد انہی اصولوں اور یقین دہانیوں پر ہونی چاہئے جن کے تحت یہ رشتہ قائم ہوا تھا۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









