سرینگر؍۲۶؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ کشمیر میراتھن کے تیسرے ایڈیشن کے کامیاب اختتام نے بین الاقوامی کھیلوں کی تقریبات اور سیاحت کے مقام کے طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت کو مضبوط بنایا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں عبداللہ نے کہا کہ اس تقریب میں۲ ہزار سے زائد رنرز نے حصہ لیا، جن میں۱۲ ممالک کے کھلاڑی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب جموں و کشمیر کو کھیلوں، سیاحت اور بین الاقوامی تقریبات کے ایک نمایاں مقام کے طور پر ابھارنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فل میراتھن اور ہاف میراتھن کے لیے مجموعی طور پر۳ء۱۷ کروڑ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے میراتھن کے خوبصورت راستے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دوران شرکاء ڈل جھیل، چنار کے درختوں، زبرون پہاڑوں اور تاریخی لال چوک سے گزرے، جس سے انہیں کشمیر کے موسمِ خزاں کے حسن کی جھلک دیکھنے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میراتھن جیسی تقریبات اور حال ہی میں تیار کئے گئے گلِ داؤدی باغ جیسے اقدامات سیاحتی موسم کو طول دینے، مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹروں، دستکاروں اور سیاحت سے وابستہ دیگر افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ یہاں آنے والے کھلاڑی کشمیر کے قدرتی حسن، گرم جوشی اور مہمان نوازی کی دیرپا یادیں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، جس سے خطے کو سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ اس تقریب میں۱۲۰۰ سے زائد مقامی رنرز نے حصہ لیا، جبکہ جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں کے لیے۲۵ لاکھ روپے کی انعامی رقم پر مشتمل ایک مخصوص زمرہ رکھا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مقامی رنرز کی بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ شرکت نوجوان کھیلوں کے ٹیلنٹ کو بلند اہداف حاصل کرنے کی ترغیب دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں، بزرگ شہریوں اور پیرا ایتھلیٹس کی موجودگی نے بھی اس تقریب کے شمولیتی جذبے کی عکاسی کی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اس بین الاقوامی کھیلوں کی تقریب کا کامیاب انعقاد جموں و کشمیر کی بڑے قومی اور عالمی پروگرام منعقد کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور کھیلوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے ایک منزل کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ (ویب ڈیسک)










