سرینگر/۲۴؍اکتوبر
کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے رہنماؤں نے ہفتے کے روز لداخ انتظامیہ کی جانب سے حالیہ نوٹیفکیشنز کے اجرا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ خطے کے لیے بااختیار نظامِ حکمرانی پر مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہنے کے باوجود انتظامیہ یکطرفہ فیصلے لے رہی ہے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ لداخ کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیے جانے کی صورت میں عوامی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
یہ تشویش مرکز کی وزارت داخلہ، کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) اور لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) کے نمائندوں کے درمیان۱۵؍اکتوبر کو ہونے والی ذیلی کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کیے گئے نظامِ حکمرانی کے مسودے پر عدم اطمینان کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
دونوں علاقائی تنظیموں نے اس مسودے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سابقہ بات چیت کے دوران کیے گئے وعدوں پر پورا نہیں اترتا۔ اس سلسلے میں۲۲؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونے والی اگلی میٹنگ بھی ملتوی کردی گئی تھی۔
کرگل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ لداخ میں آئینی تحفظات اور زیادہ اختیارات کے حوالے سے مرکز کے ساتھ مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہنے کے باوجود انتظامیہ مسلسل نوٹیفکیشن جاری کررہی ہے۔ ان میں لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں (ایل اے ایچ ڈی سی) اور ریزرویشن سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔
گرگلی نے کہا، ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے پاس نوٹس اور نوٹیفکیشن جاری کرنے اور لداخ کے عوام پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کے علاوہ کوئی کام باقی نہیں رہا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ان اقدامات سے عوام کے جمہوری حقوق متاثر ہورہے ہیں۔
انہوں نے انتظامیہ پر لداخ کے عوام کی امنگوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل سے خطے کے جمہوری ادارے کمزور ہورہے ہیں۔
کرگلی نے لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں سے متعلق مجوزہ مسودے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی خود حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق قیادت کو توقع تھی کہ نیا نظام لداخ کو نمایاں طور پر زیادہ اختیارات فراہم کرے گا، تاہم موجودہ مسودہ ان توقعات پر پورا نہیں اترتا۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے بھی انتظامی اقدامات کے ذریعے عوام کو خوف زدہ کرنے یا گمراہ کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف سخت انتباہ دیا۔
کربلائی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ چوکس رہیں اور حکومت کو متنبہ کیا کہ عوام کے صبر کو خوف، خاموش رضامندی یا فیصلوں کی قبولیت نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا، ’’آج جو خاموشی نظر آرہی ہے، وہ طوفان سے پہلے کا سکوت ہے۔‘‘انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ لداخ کے عوام اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں یا انہوں نے اپنی جدوجہد ترک کردی ہے۔
کربلائی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ۲۲ مئی کو وزارتی سطح کی میٹنگ میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرے اور ایک نظرثانی شدہ مسودہ پیش کرے، جس میں مکمل قانون ساز، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات کی ضمانت دی گئی ہو۔
انہوں نے کہا کہ عوامی بے اطمینانی میں مزید اضافے سے قبل مرکز کو اس معاملے میں کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق لداخ کے مطالبات جتنی جلدی پورے کیے جائیں گے، تمام متعلقہ فریقوں کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
لداخ کی آزاد رکن پارلیمان حنیفہ جان نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے حالیہ دور میں پیش کیا گیا نظامِ حکمرانی کا مسودہ لداخ کے عوام کی امنگوں اور حقوق کی عکاسی نہیں کرتا۔
جان نے کہا کہ خطے کا بنیادی مطالبہ ایسا جمہوری نظام قائم کرنا ہے جس میں عوام خود اپنی حکمرانی کرسکیں، اپنی پالیسیاں مرتب کریں اور ترقیاتی ترجیحات کا تعین خود کریں۔
لوک سبھا ممبر نے کہا، ’’ہمارا حتمی مقصد لداخ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ خطے کی طویل مدتی ترقی کے لیے آئینی تحفظات اور بامعنی جمہوری اختیارات ناگزیر ہیں۔انہوں نے مذاکراتی عمل میں شفافیت بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کے ڈی اے اور ایل اے بی پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے مسودے اور اعتراضات عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ لوگوں کو مذاکرات کی اصل صورت حال سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
لداخ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ملتوی شدہ میٹنگ مزید تاخیر کے بغیر منعقد کی جائے اور ایسا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا جائے جو سابقہ وعدوں کے مطابق ہو۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ لداخ کی جدوجہد کا بنیادی مقصد آئینی تحفظات، جمہوری نمائندگی اور خطے کے معاملات پر عوام کا بامعنی اختیار حاصل کرنا ہے۔
(ویب ڈیسک)










