بانڈی پورہ؍۲۴؍اکتوبر
بانڈی پورہ پولیس نے ممنوعہ تنظیم اتحاد المسلمین سے مبینہ طور پر وابستہ ایک خفیہ نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس سلسلے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق، معاملے کی تحقیقات میں علیحدگی پسند نظریے کو فروغ دینے، جیل میں موجود رابطوں کے ذریعے سرگرمیاں مربوط کرنے اور خواتین کو پروپیگنڈے سے متعلق سرگرمیوں کے لیے متحرک کرنے کے مبینہ منصوبے کی چھان بین کی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں پاکستان میں موجود ایک مبینہ رابطہ کار کے کردار، خفیہ ملاقاتوں اور مشتبہ مالی لین دین کے اشارے ملے ہیں۔ تفتیشی حکام جیل سے باہر موجود افراد اور جیل کے اندر سے سرگرم مبینہ رابطوں کے درمیان ممکنہ تعلقات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں بانڈی پورہ پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر کے تحت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون۱۹۶۷کی دفعات۱۰؍ اور۱۳ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، اب تک گرفتار کیے گئے ۶؍ افراد کی شناخت مبینہ بانو، دختر غلام احمد ڈار، ساکنہ داچھی گام، بانڈی پورہ‘وحید احمد بٹ، ولد محمد مقبول بٹ، ساکن بھٹ محلہ، کچلو قاضی پورہ، ہندواڑہ، ضلع کپواڑہ‘خوشبو جان، دختر عبدالرشید شیخ، ساکنہ چیک پنزگام، بانڈی پورہ‘مہک جان، دختر محمد سلطان شیخ، ساکنہ چیک پنزگام، بانڈی پورہ‘عالیہ جان، دختر عبدال رشید شیخ، ساکنہ چیک پنزگام، بانڈی پورہ اور عرفان احمد ریشی عرف رئیس، ولد غلام نبی ریشی، ساکن انن وان، ہندواڑہ کے طور پر ہوئی ہے۔
گرفتار شدگان میں مبینہ طور پر مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد کے کردار کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پولیس مواصلاتی رابطوں، ممکنہ مالی معاونت اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس نے کہا کہ مبینہ رابطوں کی مکمل کڑی کا پتہ لگانے اور یہ معلوم کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں کہ آیا اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث ہیں۔
۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










