سرینگر؍۲۴؍اکتوبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج اپنی کابینہ میں توسیع اور ممکنہ رد و بدل کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی پارٹی کے ساتھیوں کی جانب سے واٹس ایپ پر طویل پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں بعض رہنما اپنے مکمل سوانحی کوائف بھی بھیج رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’مجھے واٹس ایپ پر پیغامات اور طویل پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ لوگ مجھے اپنے مکمل سوانحی کوائف بھیج رہے ہیں، گویا میں انہیں جانتا ہی نہیں ہوں۔‘‘
وزیر اعلیٰ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابینہ میں کس کو شامل کیا جائے، اس کا فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہو رہا ہے۔ جموں و کشمیر کی۲۰۱۹میں تنظیمِ نو کے بعد کابینہ میں وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ نو وزرا شامل ہو سکتے ہیں۔ فی الحال عمر عبداللہ سمیت حکومت میں چھ وزرا ہیں، جس کے نتیجے میں صرف تین وزارتیں خالی ہیں۔
موجودہ وزرا میں سے کسی کو کابینہ سے ہٹانا بھی آسان فیصلہ نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی شمولیت کے وقت علاقائی، فرقہ وارانہ اور سماجی توازن کو مدنظر رکھا گیا تھا۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور وزیر ٹرانسپورٹ ستیش شرما کو جموں خطے کی نمائندگی دینے کیلئے کابینہ میں شامل کیا گیا تھا، جہاں گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
وزیر جنگلات و ماحولیات جاوید رانا پیر پنجال خطے میں نیشنل کانفرنس کے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے والے اہم رہنما اور گوجر برادری کی نمایاں شخصیت ہیں۔ وزیر صحت سکینہ ایتو کو جنوبی کشمیر کی نمائندگی کے لیے شامل کیا گیا تھا، کیونکہ وہ اس خطے سے پارٹی کی سب سے سینئر رہنما ہیں۔ خود عمر عبداللہ وسطی کشمیر کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ وزیر زراعت جاوید احمد ڈار شمالی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے ایک رہنما کے مطابق وزرا کے انتخاب کا معاملہ عمر عبداللہ کے لیے ’’ایک انار، سو بیمار‘‘ جیسا ہے، یعنی مواقع محدود ہیں جبکہ دعوے داروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
عمر عبداللہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج سینئر ساتھیوں، جن میں اسمبلی اسپیکر عبد الرحیم راتھر، مبارک گل، علی محمد ساگر اور میر سیف اللہ شامل ہیں، کو مطمئن رکھنا ہوگا۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ان میں سے کئی رہنما محسوس کرتے ہیں کہ پارٹی میں نئے چہروں کو شامل کیے جانے کے بعد انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔
ان میں سے متعدد رہنما عمر عبداللہ سے بھی زیادہ عرصے سے پارٹی میں سرگرم ہیں اور ان کے والد کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ رہنما کابینہ میں شمولیت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ علی محمد ساگر، محمد اکبر لون اور میاں الطاف جیسے کئی رہنما اپنے قانون ساز بیٹوں کو بھی کابینہ میں شامل کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔
دوسری جانب نوجوان رہنماؤں کو بھی امید ہے کہ انہیں ان کی کوششوں کا صلہ ملے گا اور حکومتی امور میں اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ خصوصاً وہ نوجوان رہنما، جنہیں وزیر اعلیٰ کے قریب سمجھا جاتا ہے، کابینہ میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔
عمر عبداللہ کے سامنے ایک اور اہم چیلنج جموں کے چناب ویلی خطے کو کابینہ میں نمائندگی دینا ہے۔۲۰۲۴ میں حکومت کی تشکیل کے وقت یہ واحد خطہ تھا جسے کابینہ میں جگہ نہیں ملی تھی۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق رپورٹ)










