بارہمولہ؍۲۴؍ اکتوبر
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہفتے کے روز عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمت کا مظاہرہ کریں اور متحد ہوکر چیلنجوں کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگ مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں دکھائیں گے تو ان کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور حالات میں تبدیلی لانے کے لیے عوام کو متحد ہونا ہوگا۔
فاروق نے کہا، ’’اگر آپ میں حوصلہ ہے تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے، لیکن اگر حوصلہ نہیں ہے تو آپ مٹ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سچ بولیں اور اپنے حقوق کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں۔
حکمران جماعت کے صدر نے کہا، ’’ہم ختم ہوچکے ہوتے، لیکن ہمت اور مقابلہ کرنے کا جذبہ ہمیں قائم رہنے میں مدد دے گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ لوگوں کو تبدیلی کے لیے خود کوششیں کرنا ہوں گی اور یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ حالات خودبخود بدل جائیں گے۔ ان کے مطابق حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
فاروق نے کہا، ’’ہم ملک کے خلاف نہیں جانا چاہتے، لیکن ہم اپنے پڑوسیوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو بدلیں۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ مرکزی حکومت نے حدبندی اور انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہوا۔انہوں نے کہا، ’’ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ دہلی میں ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ حدبندی اور انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کردیا جائے گا، لیکن ایسا کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔‘‘
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہوکر متحدہ آواز بلند کریں، کیونکہ جموں و کشمیر کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔انہوں نے کہا، ’’حکمران آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ وہ ظلم کرتے ہیں، لیکن یہ سلسلہ ہمیشہ جاری نہیں رہتا۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صدر نے نوجوانوں میں جموں و کشمیر کی تاریخ سے متعلق معلومات کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خطے کے ماضی اور ان حالات کو سمجھیں جنہوں نے اس کے سیاسی سفر کو تشکیل دیا۔
فاروق نے کہا، ’’ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم ہندوستانی نہیں ہیں، لیکن ہم بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم گاندھی کے ہندوستان اور نہرو کے ہندوستان کے ساتھ وابستہ ہوئے ہیں۔‘‘
این سی صدر نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اس کے اتحاد نے۲۰۱۹میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے میں کردار ادا کیا۔
۔۔۔۔۔۔










