جموں؍۲۴؍ اکتوبر
جموں و کشمیر کانگریس نے ایک بار پھر مکمل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک ریاستی درجے کی بحالی اور آئینی تحفظات سے متعلق اس کے خدشات دور نہیں کیے جاتے، پارٹی عمر عبداللہ کی قیادت والی کابینہ سے باہر رہے گی۔
جموں و کشمیر کانگریس کے کارگزار صدر رامن بھلا نے کہا کہ پارٹی اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ انصاف یقینی بنانے اور ان کی زمین، ملازمتوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مکمل ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر ہے۔
بھلا نے کہا، ’’کانگریس کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا مکمل ریاستی درجہ واپس ملنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اس معاملے پر پارٹی کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، زمین کے حقوق اور خطے کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے خصوصی ضمانتیں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں مکمل ریاست درکار ہے، جس کا سربراہ گورنر ہو اور جہاں اختیارات کے دو مراکز کے بجائے ایک ہی مرکز ہو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد ہی خطے سے متعلق مزید فیصلے کیے جانے چاہئیں۔
رامن بھلا نے واضح کیا کہ کانگریس نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے اور وہ عوام کے حقوق اور آئینی تحفظات کے حصول کے لیے بدستور پابند عہد ہے۔
کانگریس کے عمر عبداللہ کی قیادت والی کابینہ میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر سے جوڑا جارہا ہے۔
سال۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات کے بعد نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، تاہم نیشنل کانفرنس نے حکومت تشکیل دی جبکہ کانگریس نے وزارتی کونسل میں شامل ہونے کے بجائے باہر سے حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل ہفتے کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ اگلے ہفتے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کیا جائے گا۔
لوک بھون میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اس عمل کے لیے لیفٹیننٹ گورنر سے وقت طلب کیا ہے۔
۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )










