ٹوکیو، 3 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ اور جاپان نے اپنے دوطرفہ سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے تحقیق، ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون کی توثیق ہوتی ہے۔
امریکہ اور جاپان کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے تعاون سے متعلق معاہدے میں توسیع اور ترمیم کا پروٹوکول جمعہ کو ٹوکیو میں دستخط کیا گیا۔
امریکہ کی جانب سے صدر کے معاون اور وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کراٹشیوس نے جبکہ جاپان کی جانب سے وزیر خارجہ موتیگی توشیمتسو نے دستخط کیے۔
1988 میں پہلی مرتبہ طے پانے والا یہ معاہدہ امریکہ اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان سائنسی تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے محققین اور سائنسی اداروں کے درمیان وسیع روابط کو فروغ ملا ہے۔
ترمیم شدہ معاہدے کے تحت واشنگٹن اور ٹوکیو نے کہا ہے کہ وہ اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے شعبے میں تعاون کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، جس میں محفوظ اور قابل اعتماد اختراعی نظام کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع دونوں حکومتوں کے طویل مدتی سائنس و ٹیکنالوجی شراکت داری اور ایسے تعاون کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔







