امریکہ کی ریاست ہوائی میں مشہور ہولئی سی آرچ، تقریباً 90 فٹ (27.4 میٹر) بلند لاوے کی چٹان سے بنا قدرتی محراب، بحرالکاہل میں منہدم ہوگیا۔ نیشنل پارک سروس کے مطابق یہ قدرتی ڈھانچہ تقریباً 550 سال قبل وجود میں آیا تھا۔
اس کے منہدم ہونے کا درست وقت معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ نیشنل پارک سروس (این پی ایس) نے بتایا کہ 23 ستمبر کو بھی یہ محراب وولکینوز نیشنل پارک کے ساحل سے پانی کے اندر تک پھیلا ہوا نظر آ رہا تھا، لیکن 27 ستمبر تک غائب ہوچکا تھا۔
این پی ایس نے ایک بیان میں کہا کہ سمندری محراب کے دونوں جانب ساحلی علاقے میں کئی برس سے عدم استحکام کے آثار نظر آ رہے تھے۔ پارک سروس نے 2021 میں بھی خبردار کیا تھا کہ یہ محراب بالآخر ٹوٹ کر سمندر میں جاگرے گا۔
ہوائی جزیرے، جسے ’بگ آئی لینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے، میں چین آف کریٹرز روڈ کے اختتام پر واقع یہ قدرتی ڈھانچہ سیاحوں کی مقبول منزل تھا اور اس کی بڑی تعداد میں تصاویر لی جاتی تھیں۔ خیال ہے کہ گزشتہ ہفتے ٹراپیکل اسٹورم نولو کے دوران پارک عارضی طور پر بند کیے جانے کے وقت یہ محراب منہدم ہوا۔
پارک سروس کے مطابق 2018 میں کیلاؤیا آتش فشاں کے پھٹنے اور اس کی چوٹی کے دھنسنے کے دوران آنے والے زلزلوں نے محراب کے قریب موجود چٹانی ڈھلوانوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اس کا مکمل انہدام پارک کے دور دراز اور ناہموار ساحلی علاقے میں ہونے والی تازہ ترین قدرتی تبدیلی ہے۔
این پی ایس نے بتایا کہ جنوری 2020 میں چٹانوں میں نئی دراڑیں اور عدم استحکام سامنے آنے کے بعد پارک نے محراب کو دیکھنے کے لیے قائم اصل مقام بند کردیا تھا۔ چند ماہ بعد زیادہ محفوظ فاصلے پر ایک نیا مشاہداتی مقام قائم کیا گیا۔ اسی سال کے اواخر میں آنے والے ایک ٹراپیکل طوفان کی لہروں نے محراب کے نچلے حصے سے چٹان کا ایک بڑا ٹکڑا بھی توڑ دیا تھا۔
پارک سروس نے 2021 میں کہا تھا کہ یہ قدرتی تشکیل خوبصورت ضرور ہے، لیکن عارضی ہے اور اس کی عمر محدود ہے۔ اس کے مطابق سمندری محراب بالآخر سمندر میں گر جائے گا، تاہم ساحلی چٹان کے بتدریج اندرونِ جزیرہ منتقل ہونے کے ساتھ مستقبل میں دوسرے قدرتی محراب وجود میں آسکتے ہیں۔
محراب کے منہدم ہونے سے متعلق این پی ایس کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ہزاروں افراد نے پسندیدگی اور تبصرے کیے ہیں۔ لوگوں نے وہاں اپنے دوروں کی یادیں اور محراب کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ۔‘‘







