اقوام متحدہ، 3 اکتوبر (اسپوتنک/یواین آئی) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ اگر انہیں اقوام متحدہ کا سکریٹری جنرل منتخب کیا جاتا ہے تو وہ آزادانہ طور پر کام کریں گے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
گروسی نے آر آئی اے نووستی کو خصوصی انٹرویو میں کہا، ’’میرے خیال میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کے سربراہ کے لیے یہی سب سے اہم بات ہے۔ آزاد ہونا، اپنی الگ شناخت برقرار رکھنا اور اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھنا، خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے۔‘‘
گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے موجودہ کردار میں بھی وہ اسی اصول پر عمل کرتے ہیں اور ایجنسی کے ضوابط اور انہیں سونپی گئی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرتے ہیں۔
آر آئی اے نووستی نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کی سکریٹری جنرل رے بیکا گرین اسپین کو چوتھے غیر رسمی پول میں سب سے زیادہ حمایت ملی۔ اقوام متحدہ کے اس اعلیٰ عہدے کے لیے فی الحال سات امیدوار میدان میں ہیں۔ گرین اسپین اور گروسی کے علاوہ سینیگال کے سابق صدر مکی سال، ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ ماریا فرنانڈا اسپینوسا، ایکواڈور کی سفارت کار ایوون اے باکی، یوگنڈا کے سابق وزیر خارجہ اولارا اوتونو اور گیانا کی سابق وزیر خارجہ کیرولین روڈریگس برکٹ بھی امیدوار ہیں۔
موجودہ سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری اور آخری مدت 31 دسمبر کو ختم ہوگی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سکریٹری جنرل کی تقرری جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کی سفارش پر کرتی ہے۔







