ابوظہبی، 2 اکتوبر (یو این آئی) متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے جمعہ کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کو ’’دہشت گردانہ کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے پر ہندوستانی کپتان سمت مچھر کی تعریف کی۔
قرقاش نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’ہندوستانی کپتان سمت مچھھر ہر طرح کی تعریف کے مستحق ہیں۔‘‘ انہوں نے پائلٹ کو ’’حقیقی ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک سنگین دہشت گردانہ کارروائی اور ممکنہ تباہی کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے بہادری اور ذمہ داری کے حقیقی مفہوم کو مجسم کردیا۔‘‘
انہوں نے مشکل ترین حالات میں مچھر کی پیشہ ورانہ مہارت اور ’’اخلاقی احساس‘‘ کی بھی تعریف کی۔
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں دبئی سے تل ابیب جانے والے 174 مسافر سوار تھے۔ بدھ کو کاک پٹ میں ایک جھگڑا ہونے کے بعد پرواز کا رخ موڑ دیا گیا۔ طیارے کو سعودی عرب کے تبوک میں واقع پرنس سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دی گئی۔
فلائی دبئی نے کہا کہ کاک پٹ میں جھگڑے کے بعد عملے نے طیارے کو محفوظ بنایا اور اسے بحفاظت سعودی عرب کی جانب موڑ دیا۔
ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ واقعے میں کپتان اور فرسٹ آفیسر زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ہنگامی طور پر طیارے کا رخ موڑے جانے کے بعد تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کے محفوظ ہونے اور ان کی موجودگی کی تصدیق کی گئی۔
دریں اثنا، اسرائیلی حکام کے حوالے سے دی ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ فلائی دبئی کی پرواز میں کپتان سمت مچھر پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کرنے والے عمانی شریک پائلٹ نے سوشل میڈیا پر یہودیوں کو قتل کرنے کی بات کی تھی اور اماراتی عملے کے ارکان سے اسے قتل کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔
اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ مشتبہ شخص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اسلامی انتہا پسند اور جہادی ذہنیت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش کار اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا اس کا مقصد طیارے کو تباہ کرنا تھا، جس سے یہ واقعہ خودکش حملے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے فلائی دبئی کے کپتان پر چاقو سے حملے کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام یہ جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے منسلک تھا یا اسے پہلے سے منصوبہ بند کیا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے پرواز ایف زیڈ 1073 کے تبوک کی جانب موڑے جانے کے بعد پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔
ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تحقیقات میں حملے کے حالات اور محرکات کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا اس کا ’’دہشت گردانہ سرگرمی‘‘ سے کوئی تعلق تھا یا اس میں پیشگی منصوبہ بندی یا کسی کی ہدایت شامل تھی۔







