آرمی چیف نے جموںکشمیر کی سکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا:دفاعی ترجمان
سرینگر؍۲۶ ستمبر
آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ نے جموں و کشمیر میں ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات سے آگے رہنے کے لیے مسلسل چوکسی برقرار رکھنے اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جنرل سیٹھ نے جمعہ کو شمالی اور وسطی کشمیر کے اگلےعلاقوں، جن میں کپواڑہ اور بڈگام بھی شامل ہیں، کا دورہ کیا اور خطے میں تعینات فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی آئی) نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’جنرل سیٹھ نے سری نگر میں قائم چنار کور کے تحت راشٹریہ رائفلز کے سیکٹر ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔‘‘
آرمی چیف کو موجودہ سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کا ’’پتہ لگانے، روکنے اور فیصلہ کن انداز میں‘‘ جواب دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
جنرل سیٹھ نے تمام رینکس کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاریوں کی ستائش کرتے ہوئے انہیں مسلسل چوکسی برقرار رکھنے، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے اور ابھرتے ہوئے خطرات کا فوری اور درست انداز میں جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھنے کی تلقین کی۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے صورتحال سے مکمل آگاہی بہتر بنانے اور مجموعی انسدادِ دہشت گردی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور قریبی تال میل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دورے کے دوران مستحق فوجی اہلکاروں کو ان کی بہادری اور مثالی خدمات کے اعتراف میں توصیفی اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں ان کی جرأت اور خدمات کو سراہا گیا۔
جنرل سیٹھ نے خطرات سے آگے رہنے، کارروائیوں پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے اور مقامی آبادی کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے مربوط اور متوازن ردعمل یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اے ڈی جی پی آئی نے مزید کہا کہ ’’جے آئی سے وجے‘‘ کے جذبے کے عین مطابق بھارتی فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، باہمی ہم آہنگی مضبوط بنانے، عوام کے تحفظ اور ایک محفوظ ماحول برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
آرمی چیف کا یہ سکیورٹی جائزہ وسطی اور شمالی کشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں فوج نے بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے گھنے جنگلات میں ایک کارروائی کے دوران لشکرِ طیبہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کیا تھا، جس کی شناخت پاکستانی شہری یاسر کے طور پر کی گئی۔
فورسز نے پیر پنجال سلسلے اور اس سے ملحقہ جنگلاتی راستوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے اور دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی کارروائیوں پر مسلسل توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









