جموں؍۲۶ستمبر
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے ہفتہ کو بی جے پی پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے کام کاج میں مداخلت کی کوئی بھی کوشش جمہوریت اور آئین کا ’’قتل‘‘ تصور ہوگی۔
چودھری نے سوال کیا کہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرنے کا کیا حق ہے اور کہا کہ یہ حکومت عوام نے منتخب کی ہے، بی جے پی نے نہیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے یہاں نئے قانون ساز اسمبلی کمپلیکس میں جاری تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اگر کوئی ہمیں ختم کر سکتا ہے تو وہ صرف وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں منتخب کیا ہے۔‘‘
بی جے پی کے رکن اسمبلی شیام لال شرما کی قیادت میں پارٹی ارکان نے جمعہ کو عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت کے حالیہ اقدامات ایک سابقہ سیاسی بندوبست کو بحال کرنے اور آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی کوشش ہیں۔
شرما نے نیشنل کانفرنس کی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرکے اپنے آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس قرارداد کا مقصد خودمختاری اور 1953 سے قبل کے آئینی بندوبست سے متعلق معاملات کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔
بی جے پی کے اس مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، جو وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی میں مکمل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پیش کیے جانے کے فوراً بعد سامنے آیا، نائب وزیر اعلیٰ نے شرما سے سوال کیا کہ عوام کی جانب سے منتخب حکومت کو وہ کیسے برطرف کر سکتے ہیں؟
چودھری نے کہا، ’’…اس کا مطلب ہے کہ آپ غنڈہ گردی پر اترنا اور طاقت و جبر کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہی کہتے رہے ہیں کہ بی جے پی ایسے ہی حربے استعمال کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کے کام کاج میں مداخلت یا ’’ہماری آزادی میں رکاوٹ‘‘ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش جمہوریت اور آئین پر حملے کے مترادف ہوگی۔
چودھری نے بی جے پی پر ’’جمہوریت مخالف، آئین مخالف اور عوام مخالف‘‘ ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اس کے اقدامات اور بیانات عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جب آپ عوام کی منتخب حکومت کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ ان لوگوں کے خلاف جاتے ہیں جنہوں نے اسے ووٹ دیا ہے۔‘‘ انہوں نے ایسے طرز عمل کو ’’غداری‘‘ سے تعبیر کیا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس میں بی جے پی کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کی حکومت کام کرنا چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جماعت سیاسی محاذ آرائی میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’وہ مسلسل کہتے رہے کہ ہم انہیں گھیر لیں گے۔ لیکن انہوں نے حقیقت میں کس کو گھیرا؟ اسمبلی میں آنے کے بعد تو وہ خود ہی مشکل میں پھنس گئے۔‘‘
چودھری نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ اسمبلی اجلاس کے پہلے تین دنوں کے دوران اپنی کارکردگی کا حساب دے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے عوام سے متعلق مسائل نہیں اٹھائے۔انہوں نے کہا، ’’اگر بی جے پی ایماندار ہے تو وہ ہمیں بتائے کہ اسمبلی اجلاس کے گزشتہ تین دنوں میں اس نے عوام کے مفاد میں کیا کام کیا ہے۔‘‘ انہوں نے پارٹی پر ’’جھوٹ کے پلندے‘‘ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ بی جے پی سوشل میڈیا پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن ایوان کے اندر ایسا کرنے میں ناکام رہی، جہاں آئینی طریقہ کار کے تحت معاملات پر بحث کی جا سکتی ہے۔
ریاستی درجے کی بحالی کے معاملے پر چودھری نے الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی شکایات کے ازالے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
چودھری نے بی جے پی پر غریبوں، دکانداروں اور صحافیوں کے خلاف پولیس کے استعمال اور ’’غنڈہ گردی‘‘ کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دکانیں منہدم کی گئیں اور حکومت پر تنقید کرنے والی خبریں شائع کرنے کی کوشش کرنے والے صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا، ’’اگر ریاستی درجہ بحال کر دیا جاتا ہے تو میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ چیزیں جاری نہیں رہیں گی۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید الزام عائد کیا کہ معاشرے کے مختلف طبقات، جن میں صحافی، ملازمین، کسان اور طلبہ شامل ہیں، کو آزادانہ طور پر اظہار خیال کرنے سے روکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر بی جے پی کے ہاتھ میں ہو تو وہ پورے ملک میں فوجی راج نافذ کر دے گی،‘‘ اور الزام عائد کیا کہ پارٹی کا طرز عمل ’’غنڈہ گردی‘‘ کے مترادف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں)










