اقوام متحدہ؍۲۶ ستمبر
بھارت نے پاکستان کو ایک ’’کٹھ پتلی‘‘ حکومت قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں اس کے ’’جھوٹ اور فریب‘‘ پر سخت حملہ کیا اور خبردار کیا کہ اسلام آباد کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے نتائج برآمد ہوں گے۔
بھارت نے جمعہ کی شب اپنے جواب دینے کے حق کا استعمال کیا، جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے۲۰۲۵ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’بروقت مداخلت‘‘ کا کریڈٹ انہیں دیا اور عالمی ادارے میں اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کی فرسٹ سیکریٹری پٹیل گہلوت نے کہا، ’’ہم نے ایک ایسی حکومت کی جانب سے جمہوری حقوق اور انسانی اقدار کے بارے میں منافقانہ وعظ سنے، جس کا دارالحکومت اس وقت اپنے ہی عوام کے خلاف مضبوط بنایا جا رہا ہے۔‘‘
گہلوٹ نے کہا، ’’اور یہ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ یہ فوج کی، فوج کے ذریعے اور فوج کے لیے حکومت ہے۔ ان کی کٹھ پتلیاں آتی جاتی رہ سکتی ہیں، لیکن ہمیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اصل فیصلے کون کرتا ہے۔ پاکستان کی حقیقت اس کی۲۷ ویں ترمیم اور اس کے حقیقی حکمران کو دی گئی تاحیات استثنیٰ سے ظاہر ہوتی ہے۔‘‘
بھارتی مندوب کا اشارہ گزشتہ سال نومبر میں شہباز شریف حکومت کی جانب سے منظور کی گئی پاکستان کی۲۷ ویں آئینی ترمیم کی طرف تھا، جس کے تحت پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنیٰ حاصل ہے۔
گہلوت نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ یہ ایوان پاکستان اور اس کی پالیسیوں کو وہی سمجھے گا جو وہ حقیقت میں ہیں، نہ کہ وہ جو اس کا نمائندہ گمراہ کن انداز میں پیش کرتا ہے۔ سال بہ سال جھوٹ دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتے۔ پاکستان کی دہشت گردی، فریب اور دوغلا پن نہ تو اسے کوئی فائدہ پہنچائے گا اور نہ دنیا کو۔‘‘
اپنے خطاب میں شریف نے ٹرمپ کا ’’پُرعزم اور بصیرت افروز قیادت‘‘ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر کی ’’بروقت مداخلت‘‘ نے جنوبی ایشیا میں کروڑوں زندگیوں کو بچایا۔
تقریباً۲۳ منٹ پر مشتمل اپنے خطاب میں شریف نے کشمیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ جنوبی ایشیا دوبارہ۲۰۲۵کے تنازع کی اس انتہا تک نہ پہنچے، کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ اور عادلانہ حل ضروری ہے۔
بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو یاد دلایا کہ شریف کے ’’عجیب و غریب بیانات‘‘ ایسے وقت آئے جب نیویارک شہر اور دنیا نے ہولناک نائین الیون دہشت گرد حملے کی۲۵ویں برسی منائی تھی۔
گہلوت نے کہا، ’’اس تناظر کو ذہن میں رکھنا اس لیے اہم ہے کیونکہ اس حملے کا منصوبہ ساز اسامہ بن لادن پاکستانی فوج کی سب سے اہم اکیڈمی کے بالکل قریب رہ رہا تھا۔‘‘
شریف کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ بھارتی مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر ملک کا ’’اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ‘‘ ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ لیکن اگر ہمیں کشمیر کے بارے میں بات ہی کرنی ہے تو ہمیں اپنی توجہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی جانب کرنی چاہیے۔ راولاکوٹ کے لوگوں سے پوچھیں کہ وہاں طویل عرصے سے من مانی ہلاکتوں، وحشیانہ تشدد اور بنیادی حقوق سے محرومی کا وہ کس طرح سامنا کرتے رہے ہیں۔‘‘
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کے علاقے میں کئی ماہ سے۱۲ متنازع پناہ گزین نشستوں کے معاملے پر احتجاج جاری ہے، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی اور حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ’’دیرینہ طرز عمل‘‘ پر سخت تنقید کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال یہ ثابت کر دیا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہوگی اور نہ ہی چھپنے کی کوئی جگہ۔‘‘
بھارت نے۷مئی گزشتہ سال آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی۲۲؍اپریل کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی تھی، جس میں۲۶ شہری ہلاک ہوئے تھے۔
گہلوت نے کہا، ’’دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کو استعمال کیا جائے گا۔ اور پاکستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔ اس سے لازماً ان تعلقات پر سوال اٹھے گا جن کی بنیاد دوستی اور خیرسگالی پر رکھی گئی تھی۔‘‘
بھارتی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریف کی جانب سے پیش کیے گئے خیالات ’’ان لوگوں کی طرف سے آتے ہیں جن کا تعصب اور نفرت کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔‘‘
گہلوت نے کہا، ’’اسی ایوان نے مذہبی عدم برداشت کے بارے میں ایسی حکومت کے بیانات سنے جس کا بنیادی سہارا توہینِ مذہب کے قوانین ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؛ کوئی بھی مذہبی یا اخلاقی وعظ اسے گمراہ نہیں کر سکتا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )










