لہروالپورہ، بانڈی پورہ؍۲۶ستمبر
پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ میں آج بیگ لیس ڈے کے موقع پر ایک بین المدارس پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں چار سرکاری اسکولوں کے۴۰۰سے زائد طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔ پروگرام میں کوئز، تقریری، نعت اور تلاوت کے مقابلے شامل تھے۔
مڈل اسکول ریشی محلہ، پرائمری اسکول ہم محلہ، پرائمری اسکول فشرمین کالونی اور میزبان پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ کے طلبہ و اساتذہ نے اس منفرد تعلیمی و ثقافتی اجتماع میں حصہ لیا۔
تقریب کی سب سے نمایاں خصوصیت مشترکہ دسترخوان تھا، جہاں۴۰۰ سے زائد طلبہ اور اساتذہ نے اسکول کے سبزہ زار میں ایک ساتھ بیٹھ کر نمکین چائے اور روایتی روٹیاں تناول کیں۔ پورے انتظام کی منصوبہ بندی اور تکمیل میزبان اسکول کے طلبہ نے خود کی، جس سے انہیں عملی زندگی کی مہارتیں، ٹیم ورک، قیادت، باہمی تعاون، مہمان نوازی اور تقریب کے انتظام کا تجربہ حاصل ہوا۔
طلبہ نے اس اجتماع کے لیے تقریباً۵۰۰ روٹیاں تیار کیں۔ پانچ پانچ طلبہ پر مشتمل۱۰ گروپوں نے روٹیاں تیار کرنے کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ سبز لان میں روایتی سماواروں میں چائے پیش کی گئی۔ کھانے کی تیاری سے لے کر اجتماع کے انتظام، مہمانوں کی میزبانی اور انہیں کھانا پیش کرنے تک طلبہ نے مختلف ذمہ داریاں انجام دیں، جس سے یہ پورا تجربہ اجتماعی ذمہ داری اور عملی تربیت کی ایک سبق آموز مثال بن گیا۔
تقریب میں طلبہ کو کوئز، تقریری مقابلے، نعت اور تلاوت کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع بھی ملا۔ مجموعی طور پر۶۰ طلبہ کو ان کی شرکت، صلاحیت اور کارکردگی کے اعتراف میں اسٹیشنری کا انعام دیا گیا۔
انعامات جامع مسجد کے امام خورشید انور نادی نے تقسیم کیے۔ انہوں نے طلبہ کی بھرپور شرکت اور شریک اسکولوں کی جانب سے روایتی جماعتی ماحول سے ہٹ کر بامعنی تعلیمی تجربات فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
اپنے صدارتی خطاب میں امام خورشید انور نادی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ گھریلو کاموں میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹائیں اور والدین کے مشوروں کا احترام کرتے ہوئے ان پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم فراہم کرنا نہیں بلکہ بچوں میں احترام، ذمہ داری، اطاعت اور خاندان و معاشرے کی خدمت جیسے اوصاف پیدا کرنا بھی ہے۔
اس موقع پر پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول لہروالپورہ کے سربراہ جاوید جواد نے تمام اساتذہ، طلبہ، مہمانوں اور شریک اسکولوں کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے پروگرام کامیاب ہوا۔
جواد نے کہا کہ یہ اسکول کی جانب سے منعقد کیا جانے والا تیسرا بیگ لیس ڈے پروگرام تھا، جو قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ کی روح کے مطابق طلبہ کو تجرباتی، ہمہ جہت اور مہارت پر مبنی سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔
جاوید جواد نے کہا کہ ایسے پروگراموں کا اصل مقصد بچوں کو ایسے عملی تجربات فراہم کرنا ہے جو انہیں زندگی کے لیے تیار کریں۔انہوں نے کہا، ’’آج ہمارے طلبہ صرف شرکاء نہیں تھے بلکہ وہ منتظم، میزبان، باورچی، خدمت گار اور ٹیم لیڈر بھی بنے۔ انہوں نے سیکھا کہ کسی تقریب کی منصوبہ بندی کیسے کی جاتی ہے، ذمہ داریاں کس طرح تقسیم کی جاتی ہیں، ٹیم کی صورت میں کیسے کام کیا جاتا ہے، وسائل کو کیسے منظم کیا جاتا ہے اور مہمانوں کا استقبال کس طرح کیا جاتا ہے۔ یہ زندگی کی ایسی مہارتیں ہیں جو ہمیشہ کتابوں سے حاصل نہیں کی جا سکتیں۔‘‘
تقریب کے اختتام پر یہ پیغام نمایاں طور پر سامنے آیا کہ تعلیم صرف کلاس روم اور امتحانات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں تخلیقی صلاحیت، تعاون، ثقافت، ذمہ داری، عملی مہارتیں اور مل جل کر زندگی گزارنے اور کام کرنے کا شعور بھی شامل ہے۔
مشترکہ دسترخوان، طلبہ کی زیرِ نگرانی انتظامات اور بین المدارس مقابلوں نے بیگ لیس ڈے کو ایک بامعنی تجرباتی تعلیمی سرگرمی میں تبدیل کر دیا، جہاں۴۰۰ سے زائد طلبہ نے صرف حصہ نہیں لیا بلکہ عملی طور پر کام کرتے، انتظام کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہوئے بھی سیکھا۔
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق رپورٹ)










