سرینگر؍۲۶ ستمبر
جموں و کشمیر پبلک ورکس (روڈز اینڈ بلڈنگز) محکمہ میں اس وقت خدمات انجام دینے والے۱۰؍انجینئروں کے خلاف اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) یا سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) میں مقدمات درج ہیں، جبکہ متعدد افسران کو گرفتار، معطل کیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی جاری ہے۔
یہ انکشاف حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے جانب سے مبینہ انتظامی بے ضابطگیوں اور اے سی بی، سی بی آئی، کرائم برانچ اور باقاعدہ محکمانہ کارروائی (آر ڈی اے) کا سامنا کرنے والے انجینئروں کی تبادلوں سے متعلق سوال کے جواب میں کیا۔
حکومت کے جواب اور اس کے ساتھ منسلک ضمیمے کے مطابق حاضر سروس انجینئروں کے خلاف مقدمات میں رشوت ستانی، سرکاری فنڈز میں مبینہ خردبرد اور معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
منظور احمد ڈار، انچارج ایگزیکٹو انجینئر (مکینیکل)، کے خلاف اے سی بی اننت ناگ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ حکومت کے مطابق وہ ڈیپوٹیشن پر محکمہ جل شکتی میں خدمات انجام دے رہے تھے اور اے سی بی کی جانب سے گرفتاری کے بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔
مبارک احمد گنائی، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (سول)، آر اینڈ بی سب ڈویژن سوپور، کے خلاف اے سی بی بارہمولہ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں معطل کرکے چیف انجینئر پی ڈبلیو (آر اینڈ بی) شمالی کشمیر کے دفتر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی زیرِ غور ہے۔
سنجے کول، جونیئر انجینئر (سول)، دفتر سپرنٹنڈنگ انجینئر ادھم پور۔ریاسی سرکل، کے خلاف سی بی آئی کیس آر سی درج ہے۔ حکومت کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں معطل کیا گیا، جبکہ محکمانہ کارروائی اختتامی مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔
مبارک احمد وانی، جونیئر انجینئر، آر اینڈ بی سب ڈویژن ڈورو، کے خلاف اے سی بی اننت ناگ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ گرفتاری کے بعد انہیں معطل کرکے چیف انجینئر پی ڈبلیو (آر اینڈ بی) کشمیر کے دفتر کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ محکمانہ کارروائی زیرِ غور ہے۔
شکیل احمد ڈار، اس وقت اسسٹنٹ انجینئر، بلاک پہلگام، کے خلاف اے سی بی اننت ناگ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ حکومت کے مطابق انہیں مبینہ طور پر رشوت وصول کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد انہیں معطل کرکے محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ باقاعدہ محکمانہ کارروائی اختتامی مرحلے میں ہے۔
حکیم امتیاز، اس وقت جونیئر انجینئر، آر اینڈ بی پی ڈبلیو ڈی شوپیاں ڈویژن، کے خلاف مبینہ فنڈز میں خردبرد کے معاملے میں اے سی بی اننت ناگ نے ایک ایف آئی درج کی ہے۔ انہیں معطل کرکے دفتر ڈپٹی کمشنر شوپیاں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔
فاروق احمد شاہ، اس وقت اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر، پی ڈبلیو (آر اینڈ بی) ڈویژن ہندواڑہ اور موجودہ طور پر اسی ڈویژن کے انچارج ایگزیکٹو انجینئر، کے خلاف اے سی بی بارہمولہ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ یہ معاملہ معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات سے متعلق ہے اور ابھی اے سی بی کی تحقیقات میں ہے۔
لیاقت جاوید شیخ گوجر، اسسٹنٹ انجینئر، پی ایم جی ایس وائی ڈویژن تھتھری، کے خلاف سی بی آئی/اے سی بی جموں میں کیس درج ہے۔ حکومت کے مطابق انہیں معطل کرکے سپرنٹنڈنگ انجینئر پی ڈبلیو (آر اینڈ بی) سرکل ڈوڈہ-کشتواڑ کے دفتر کے ساتھ منسلک کیا گیا، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔
ضمیمے میں ارشاد امین، جو چانگہ ڈوڈہ کے آر ای ڈبلیو/بی ڈی او دفتر میں اس وقت جونیئر انجینئر تھے، کا نام بھی شامل ہے، ان کے خلاف اے سی بی سینٹرل جموں میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ اسی طرح تصدق ریاض، جو ہردابورا کے بی ڈی او دفتر میں اس وقت جونیئر انجینئر تھے، کے خلاف اے سی بی بارہمولہ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔
حکومت نے بتایا کہ دونوں افسران کو محکمہ دیہی ترقی میں خدمات انجام دینے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔
ان الزامات کے بارے میں کہ بدعنوانی یا فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والے انجینئروں کے قبل از وقت تبادلے کیے جا رہے تھے، حکومت نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔
حکومت نے کہا کہ۱۲۴؍ایگزیکٹو انجینئروں اور۴۰۲؍ اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئروں کے تبادلے یا ایڈجسٹمنٹ ترقیوں اور محکمانہ ضروریات کے تحت کی گئی۔ جونیئر انجینئروں کے تبادلے، حکومت کے مطابق، متعلقہ چیف انجینئروں اور انجینئر اِن چیف نے مقررہ تبادلہ پالیسی کے مطابق کیے۔
حکومت نے خاص طور پر کہا کہ کسی بھی ایسے حاضر سروس انجینئر کا قبل از وقت تبادلہ نہیں کیا گیا جو سی بی آئی، اے سی بی، آر ڈی اے یا کسی فوجداری مقدمے کا سامنا کر رہا ہو۔
مزید کہا گیا کہ سنگین بدعنوانی یا بدعنوان طرزِ عمل کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسران کو معطل کیا گیا، جبکہ دیگر معاملات میں تادیبی کارروائی یا آر ڈی اے شروع کیے گئے۔ حکومت کے مطابق ان کی بعد ازاں ایڈجسٹمنٹ متعلقہ کارروائیوں کے نتائج کی بنیاد پر ہوگی۔
ٹینڈر کے عمل سے متعلق الزامات کے بارے میں حکومت نے کہا کہ۲۰۲۴ کے بعد پیر پنجال زون یا نوشہرہ ڈویژن میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سنگل ٹینڈر الاٹمنٹ یا من مانی طور پر ٹینڈرز منسوخ کرنے کے واقعات میں کوئی اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔
حکومت نے کہا کہ۲۰۲۵۔۲۶ کے دوران پیر پنجال زون میں صرف دو ٹینڈرز دوسری مرتبہ طلب کیے جانے پر سنگل بڈ کی بنیاد پر الاٹ کیے گئے، اور اس میں جی ایف آر۲۰۱۷؍اور متعلقہ وزارتِ سڑک و شاہراہ رہنما اصولوں کی پابندی کی گئی۔
حکومت نے مزید کہا کہ آر ای ڈبلیو راجوری میں دوہری فنڈنگ، آر ڈی ڈی کی سڑکوں کو غلط طور پر ظاہر کرنے یا مقررہ ٹینڈرنگ طریقۂ کار کی پیروی کے بغیر کام انجام دینے کا کوئی معاملہ رپورٹ نہیں ہوا۔ حکومت نے واضح کیا کہ آر ای ڈبلیو راجوری کے تحت نوشہرہ کا کوئی ڈویژن موجود نہیں ہے۔
۲۰۲۰ے بٹومین/تار مقدمے کے بارے میں حکومت نے کہا کہ معاملہ اب بھی اے سی بی کی تحقیقات میں ہے۔مغل روڈ پروجیکٹ کا مقدمہ جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ محکمہ کی جانب سے دلائل۱۷؍ اور۱۸ ستمبر کو مکمل ہوئے، جبکہ ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے دلائل کے لیے معاملہ۲۶ ستمبر کو مقرر تھا۔
حکومت نے ایوان کو جموں و کشمیر پروجیکٹس کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی) میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور دیگر معاملات سے متعلق الزامات سے بھی آگاہ کیا۔
حکومت نے کہا کہ۲۰۱۸؍اور۲۰۱۹ میں حقائق جاننے والی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں اور ان کی رپورٹس کو بعد ازاں مجاز اتھارٹی نے منظور کر لیا۔ حکومت نے سابق جے کے پی سی سی افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تفصیلات بھی فراہم کیں، جن میں بعض ایسے معاملات شامل ہیں جن میں کارروائی ختم کر دی گئی، جبکہ کچھ معاملات اب بھی زیرِ التوا ہیں۔
یہ انکشافات اسمبلی میں انجینئرنگ افسران کی انتظامی جواب دہی، تبادلوں اور محکمانہ کارروائیوں سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے دوران سامنے آئے۔
۔۔۔۔
(ندائے مشرق ڈیسک)










