نیویارک، 25 ستمبر (یو این آئی) نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے گزشتہ ماہ ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو ’’دنیا کے لیے انتباہ‘‘ قرار دیا ہے۔
شاہ نے جمعرات کی شب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے کہا کہ اگست میں آنے والی تباہی ’’صرف ایک مقامی سانحہ نہیں تھی‘‘ اور سوال کیا، ’’کیا آپ نے واقعی اس انتباہ کو سنا ہے؟‘‘
انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنما ’’ان انتباہات کو کمزور لوگوں کی ضرورت کے مطابق رفتار اور پیمانے پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں غفلت برتتے رہے ہیں۔‘‘
26 اگست کو برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں مٹی، چٹانوں اور پانی کے ایک بڑے ریلے نے شمالی نیپال اور چین کے تبت سرحدی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس میں کم از کم 1,453 افراد ہلاک ہوئے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، 5,500 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ 13,795 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (ڈبلیو ڈبلیو اے) گروپ کے محققین نے گزشتہ ہفتے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ یہ تباہی کسی ایک شدید موسمی واقعے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ طویل مدتی درجہ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کے پگھلنے، مستقل منجمد زمین (پرمافراسٹ) کے پگھلنے اور ارضیاتی عدم استحکام سے پیدا ہونے والا ’’پیچیدہ بحران‘‘ تھا۔
شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ان لوگوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جو اس بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن ’’اس کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نیپال کا حصہ ایک فیصد کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔ ملک کی تقریباً 99 فیصد بجلی پن بجلی سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ سیلاب کے باعث متعدد کارکن سرنگوں میں پھنس گئے تھے۔
شاہ نے کہا، ’’ہمارے گلیشیئر پیچھے ہٹ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہو رہی ہیں، ہمارے دریاؤں کے بہاؤ کی پیش گوئی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور ہر بڑی قدرتی آفت ترقی کے برسوں کو مٹانے کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔‘‘
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے میں نیپال کی مدد کے اخراجات میں بھی حصہ لے۔
شاہ نے ’’ہمالیہ کلائمیٹ ریزیلینس میکانزم‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس میں نیپال کے ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور چین شامل ہوں گے۔ اس کے تحت سیٹلائٹ ڈیٹا اور ماہرین کی معلومات کا تبادلہ، برفانی جھیلوں کی نگرانی اور مشترکہ ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
نیپال نے اقوام متحدہ کے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سے 20 ملین ڈالر کی امداد طلب کی ہے، جو اس فنڈ سے حاصل کی جانے والی زیادہ سے زیادہ رقم ہے، تاہم یہ ملک کی ضرورت کے مقابلے میں بہت معمولی حصہ ہے۔ حکومت کے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصان کی لاگت 5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ فنڈ 2022 میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا، لیکن اب تک اس سے پہلی رقم بھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق نیپال کا معاملہ اس فنڈ کی ساکھ کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوگا۔
امریکہ نے بھی رواں ہفتے کے آغاز میں سیلاب کے بعد بحالی کے لیے مزید 31 ملین ڈالر کی نئی امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔










