سری نگر، 25 ستمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنا کوئی ملک دشمن اقدام نہیں ہے۔
اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد پر ہنگامہ آرائی کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ قرارداد میں کوئی ایک ایسا لفظ دکھائے جو ملک دشمن ہو۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’مجھے قرارداد میں استعمال کیا گیا ایک بھی ملک دشمن لفظ دکھائیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پہلے ہی ایوان سے منظور کی جاچکی خودمختاری کی قرارداد سے مختلف ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر بی جے پی پہلے سے منظور شدہ قراردادوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے تو وہ اپنی قرارداد لے کر آئے۔‘‘
بی جے پی پر ایوان کے اندر ڈرامہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی نہیں چاہتی کہ لوگ حقیقت دیکھیں۔
وزیرا علیٰ نے کہا، ’’قائد حزب اختلاف اور بی جے پی صرف ریاستی حیثیت کے مخالف ہیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوں نے آج دیکھا کہ بی جے پی کے یہ 29 ارکان اسمبلی ریاستی حیثیت کے خلاف ہیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ قرارداد کا مقصد صرف مرکز پر مکمل ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے زور دینا تھا اور بی جے پی کو اس پر بحث کی اجازت دینی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا، ’’آج بی جے پی بے نقاب ہوگئی۔ بہتر ہوتا کہ اس قرارداد پر بحث کی اجازت دی جاتی۔‘‘
قرارداد پر کانگریس پارٹی کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قرارداد میں کچھ بھی غیر آئینی نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ یہ پہلے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ ہے۔ یہ الگ ہے اور اس میں کچھ بھی غیر آئینی نہیں ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










