نئی دہلی؍۲۵ستمبر
وزارتِ خزانہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ حکومت نے بینکوں میں پانچ روزہ ہفتہ کار کی منظوری کبھی نہیں دی تھی۔ یہ وضاحت یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کی جانب سے۲۸ سے۳۰ ستمبر تک تین روزہ ہڑتال کے اعلان سے قبل سامنے آئی ہے۔ بینک یونینوں کی اہم مانگ پوری نہ ہونے کے باعث ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’گزشتہ اجرتی مذاکرات کے وقت پانچ روزہ ہفتہ کار پر کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ یہ کبھی مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔‘‘
۲۲ ستمبر کو آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ اس مطالبے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا، حالانکہ مارچ۲۰۲۴ میں گزشتہ اجرتی نظرثانی معاہدے کے تحت اس پر ’’اتفاق کیا گیا اور دستخط کیے گئے تھے‘‘۔
خط میں مزید کہا گیا کہ انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) کے عہدیداروں نے یونین نمائندوں کو بتایا تھا کہ بینکوں میں پانچ روزہ ہفتہ کار کا معاملہ ’’حکومت کے زیر غور ہے‘‘۔
فی الحال ہر ماہ پہلے، تیسرے اور پانچویں ہفتے کے ہفتہ کو بینکوں کی شاخیں کھلی رہتی ہیں۔مارچ۲۰۲۴ میں طے پانے والے۱۲ یں دو طرفہ اجرتی معاہدے میں کہا گیا تھا کہ آئی بی اے اور بینک یونینوں کے درمیان تمام ہفتہ کے دنوں کو بینکوں کے لیے تعطیل قرار دینے پر ’’ایک مفاہمت‘‘ ہوئی ہے۔
معاہدے میں کہا گیا تھا کہ آئی بی اے نے اس سلسلے میں حکومت کو سفارش بھیج دی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ کام کے اوقات میں ضروری تبدیلیاں حکومت ہند کی منظوری اور حکومت و ریزرو بینک آف انڈیا سے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد نافذ ہوں گی۔
تاہم وزارتِ خزانہ کے عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے پانچ روزہ ہفتہ کار پر اتفاق نہیں کیا تھا، اگرچہ اجرتی مذاکرات کے دوران بینک ملازمین کو دیگر کئی مراعات دی گئی تھیں۔
عہدیدار کے مطابق، ’’آئی بی اے اجرتی مذاکرات میں۱۱ فیصد سے زیادہ اضافے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن حکومت نے مداخلت کی اور۱۷ فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ اسی طرح خاندانی پنشن کے معاملے میں بھی آئی بی اے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی تھی، لیکن حکومت نے کہا کہ ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد دوسری جانب ہوں گے، اس لیے اس معاملے کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے۔‘‘
ذرائع نے مزید کہا کہ کارکردگی سے منسلک مراعات یعنی پی ایل آئی اسکیم کو رواں مالی سال کے لیے مخالفت کے بعد روک دیا گیا ہے۔
نومبر۲۰۲۴ میں اعلان کردہ سرکاری شعبے کے بینکوں کے ملازمین کے لیے پی ایل آئی اسکیم کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسے ’’امتیازی‘‘ قرار دیا گیا تھا کیونکہ یہ صرف اسکیل۴؍ اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے مختص تھی۔ بینک یونینوں کے مطابق یہ اسکیم تقسیم پیدا کرنے والی، حوصلہ شکن اور ملازمین کی کارکردگی کو متاثر کرنے والی تھی۔
۲۸ ستمبر سے شروع ہونے والی تین روزہ ہڑتال کے پیش نظر حکومت نے بدھ کو اعلان کیا کہ سرکاری شعبے کے بینک اور علاقائی دیہی بینک۲۷ستمبر، اتوار کو معمول کے مطابق کام کریں گے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عوام کی ’’حقیقی بینکاری ضروریات‘‘ طویل عرصے تک متاثر نہ ہوں۔۲۶ستمبر ہفتہ کو بینکوں کے لیے غیر کاری دن ہونے کی وجہ سے تین روزہ ہڑتال کی صورت میں بینک مسلسل پانچ دن بند رہ سکتے تھے۔
وزارتِ خزانہ نے مزید بتایا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے تمام بینک شاخوں، دفاتر، اے ٹی ایم سے منسلک شاخوں اور کرنسی چیسٹ کو اتوار کے روز ’’مکمل طور پر فعال‘‘ رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










