جموں؍۲۵ ستمبر
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے کانگریس کے درجنوں کارکنوں اور رہنماؤں کو جمعہ کو جموں میں حراست میں لے لیا گیا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سید نصیر حسین نے احتجاج کی قیادت کی۔ سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔
مظاہرین نے گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور ان کا پتلا نذر آتش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے جموں میں الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے الیکشن کمیشن کے دفتر کے اطراف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان معمولی ہاتھا پائی بھی ہوئی، جس کے بعد کئی مظاہرین، جن میں پارٹی کے سینئر رہنما بھی شامل تھے، حراست میں لے لیے گئے اور انہیں بسوں میں وہاں سے لے جایا گیا۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ہمیں بڑی تعداد میں حراست میں لیا گیا ہے۔ انہیں بسوں میں لے جایا گیا۔ ہم چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے آج یہاں احتجاج کیا۔‘‘
کانگریس کارکن الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جمع ہوئے تھے اور احاطے کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ یہ احتجاج گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر کانگریس کی ملک گیر احتجاجی مہم کا حصہ تھا۔
کانگریس نے گیانیش کمار کے دور میں لیے گئے فیصلوں اور انتخابی فہرستوں میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ طور پر جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ پیش رفت دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے خصوصی نظرثانی (SIR) سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ان فیصلوں سے متعلق تھے جو مبینہ طور پر ان کی معلومات کے بغیر یا ان کی سفارشات کے برخلاف لیے گئے تھے۔ ان معاملات میں فارم ۶میں تبدیلیاں اور انتخابی فہرستوں کے اعداد و شمار کا انتظام بھی شامل تھا۔
کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر چودھری لال سنگھ نے کہا کہ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جہاں جہاں الیکشن کمیشن کے دفاتر ہیں، وہاں ریاستی اور ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی ادارے نے حکومت کے ساتھ ملی بھگت میں کام کیا اور لوگوں کے ووٹ دینے کے حق کا غلط استعمال کیا۔
الیکشن کمیشن کے دفتر کے اطراف امن و امان برقرار رکھنے اور کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے پولیس کی بھاری تعیناتی برقرار رہی۔
یہ احتجاج گیانیش کمار کے خلاف کانگریس کی ملک گیر مہم کا حصہ تھا۔ پارٹی نے اپنی ریاستی اکائیوں سے۲۵ ستمبر کو ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر کی جانب مارچ کرنے کی اپیل کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










