سرینگر؍۲۵ ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو بی جے پی کے ارکان اسمبلی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مرکز کے زیر انتظام خطے کے لیے فوری طور پر ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے ارکان اسمبلی کے درمیان ہنگامہ آرائی اور ہاتھا پائی کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کیے جانے کے بعد اسمبلی احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی نئی قرارداد نے زیادہ خود اختیاری یا خصوصی حیثیت سے متعلق سابقہ قراردادوں کو کمزور نہیں کیا ہے بلکہ اس کا مقصد ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر ایوان کو ایک آواز بنانا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’آپ نے دیکھا کہ بی جے پی نے اس پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔ کیونکہ وہ ریاستی درجے کے معاملے پر ووٹ ہی نہیں دینا چاہتے۔ وہ کسی نہ کسی بہانے اس ووٹنگ سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔‘‘
ہنگامہ آرائی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ایوان سے آرٹیکل۳۷۰ یا خصوصی حیثیت پر ووٹ دینے کے لیے نہیں کہا جا رہا، کیونکہ۲۶ جون۲۰۰۰؍اور۶ نومبر۲۰۲۴کو منظور کی گئی قراردادیں پہلے ہی ایوان کا حصہ ہیں۔
سابق ریاستی اسمبلی نے۲۶ جون۲۰۰۰ کو اس وقت کی فاروق عبداللہ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد منظور کی تھی، جس میں۹؍ اگست۱۹۵۳ سے پہلے موجود زیادہ خود اختیاری کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔۶ نومبر۲۰۲۴کو مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی اسمبلی نے خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’آج کوئی بھی ان سے آرٹیکل۳۷۰ ، خصوصی حیثیت یا خود اختیاری پر ووٹ دینے کے لیے نہیں کہہ رہا۔ ہم بی جے پی سے صرف اور صرف ریاستی درجے کے معاملے پر ووٹ مانگ رہے ہیں اور وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘
بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ قرارداد کے متن میں کسی بھی غیر آئینی زبان کی نشاندہی کرے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ مرکز کو جموں و کشمیر کا مکمل اور پوری طرح ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنا چاہیے۔ مجھے قرارداد میں ایک ایسا لفظ دکھا دیں جو ملک دشمن ہو۔‘‘
بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما کی جانب سے گزشتہ دو برس کے دوران حکومت کی کارکردگی پر جواب دہی کے مطالبے کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ پیر کو ہونے والی بحث کے لیے تیار ہیں اور ووٹنگ سے قبل حکومت کی کارکردگی اور اسے درپیش مشکلات ایوان کے سامنے رکھیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں تیار ہوں۔ پیر کو بحث لے آئیے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہماری جو بھی کارکردگی رہی ہے، ہم سب کچھ ایوان کے سامنے رکھیں گے۔ ان دو برسوں کے دوران ہمیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن مسائل سے ہم دوچار ہوئے اور جن حالات کا ہمیں سامنا کرنا پڑا، ہم وہ سب بھی ایوان کے سامنے رکھیں گے۔ اس کے بعد ہم امید کرتے ہیں کہ ایوان اس قرارداد پر ووٹ دے گا اور ہم اسے مرکزی حکومت کو بھیج دیں گے۔‘‘
عمرعبداللہ نے ایک بار پھر کہا کہ اسمبلی حکمران جماعت کی کابینہ سے آگے عوام کی اجتماعی آواز کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے۲۹؍ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ کارروائی میں خلل ڈالنے کے بجائے بحث میں حصہ لیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’غیر حاضر نہ ہوں، واک آؤٹ نہ کریں، ہنگامہ نہ کریں، اپنا ووٹ ڈالیں! اگر آپ ریاستی درجے کے حق میں ہیں تو ’ہاں‘ میں ووٹ دیں، اگر مخالفت میں ہیں تو ’نہیں‘ میں ووٹ دیں۔ عوام کو معلوم ہونے دیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی ریاستی درجے کے نام پر انتخابات لڑ کر ایوان میں پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’وہ مسلسل ہمیں ہمارے منشور کی یاد دلاتے ہیں، لیکن انہیں اپنا منشور یاد نہیں! اس لیے آج میں ایک بار پھر ان سے کہتا ہوں کہ آپ کو جو کچھ کہنا ہے، ایوان کے اندر کہیں۔‘‘
کانگریس کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ارکان نے تسلیم کیا ہے کہ نئی دہلی کو متحدہ قانون ساز مطالبہ بھیجنے میں کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے۔
سابقہ قراردادوں کا حوالہ دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ حوالہ اس لیے ضروری تھا تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔انہوں نے کہا، ’’کل آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ دیکھیں، انہوں نے ان قراردادوں کو ترک کردیا اور اس کے بجائے یہ قرارداد لے آئے۔ اسی لیے ہم نے ’اس کے علاوہ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں، یعنی وہ قراردادیں بدستور ایوان کا حصہ ہیں۔ ہم ان قراردادوں کو چھو نہیں رہے، وہ اپنی جگہ قائم ہیں۔ لیکن آج ہم ریاستی درجے کے بارے میں ایک الگ قرارداد لا رہے ہیں، جو سابقہ قراردادوں کو کمزور نہیں کرتی۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ دو سال قبل کابینہ کی جانب سے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کیے جانے کے باوجود دوبارہ قرارداد لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجے کے لیے دو سال انتظار کرانا بہت طویل عرصہ ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’واضح طور پر کابینہ کی آواز کو عوام کی آواز نہیں سمجھا گیا۔ اسی لیے چونکہ قانون ساز اسمبلی جموں و کشمیر میں سیاسی رائے کے پورے منظرنامے کی نمائندگی کرتی ہے۔۔۔ کابینہ صرف حکمران جماعت کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ اسمبلی ان جماعتوں کی بھی نمائندگی کرتی ہے جو حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)










