ہفتہ, ستمبر 26, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی کی قرارداد پر ہنگامہ

اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد پر بی جے پی سیخ پا‘شور شرابے کے بعدایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-26
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
ریاستی درجے کی بحالی کی قرارداد پر ہنگامہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’ریاستی درجے کی قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کیلئےبی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا‘

ریاستی درجے پر بحث کیلئے تیار‘۳۷۰ پر نہیں :بی جے پی

اپوزیشن جماعت کے ارکان کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس  اور اتحادی کانگریس ارکان کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی

سری نگر؍۲۵ستمبر

                جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے جمعہ کو اسمبلی میں مرکز سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

                اپوزیشن بی جے پی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے، جس کے نتیجے میں حکمران نیشنل کانفرنس کے ارکان کے ساتھ ان کی تلخ کلامی شروع ہوگئی۔

                اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ارکان اسمبلی کو اپنی نشستوں پر واپس جانے کی بارہا ہدایت کی، تاہم جب ان کی اپیلوں پر عمل نہیں ہوا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

                بی جے پی ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کی، جس میں نیشنل کانفرنس حکومت کی جانب سے جون۲۰۰۰ میں پیش کی گئی اٹانومی سے متعلق قرارداد کا حوالہ دیا گیا ہے، جب جموں و کشمیر ایک مکمل ریاست تھا۔

                قرارداد میں کہا گیاہے’’۲۶جون۲۰۰۰اور۶نومبر۲۰۲۴کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور بلاتاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اس قرارداد کو حکومت ہند کو بھیجا جائے۔‘‘

                فاروق عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت نے۲۶ جون۲۰۰۰کو۹؍ اگست۱۹۵۳سے پہلے موجود زیادہ خود اختیاری کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔

                ۶ نومبر۲۰۲۴کو بھی ایوان نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی تھی۔

                عمر عبداللہ کی جانب سے جمعہ کو قرارداد پیش کیے جانے کے ساتھ ہی حکومتی ارکان نے میزیں تھپتھپا کر اس کا خیرمقدم کیا، تاہم۲۰۰۰کی قرارداد کے حوالے نے بی جے پی ارکان کو احتجاج پر مجبور کردیا۔

                بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا، ’’ہم ایوان میں اٹانومی کے مسئلے پر بحث کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘بی جے پی ارکان نے الزام عائد کیا کہ قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ نے قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے سے پہلے ہی اسے پڑھ دیا۔ احتجاج کے دوران بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول بھی پھاڑ دیں۔

                ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد ارکان اسمبلی کے درمیان شدید بحث و تکرار ہوئی۔

                قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ایوان کو اس قرارداد پر متفقہ طور پر بحث کرکے اسے منظور کرنا چاہیے کیونکہ ریاستی درجہ نہ دیا جانا جموں و کشمیر کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام سے ایک وعدہ کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں وعدہ کیا گیا، سپریم کورٹ میں وعدہ کیا گیا اور مختلف عوامی فورمز پر وعدہ کیا گیا کہ تین مراحل پر مشتمل عمل نافذ کیا جائے گا: پہلے حد بندی، پھر انتخابات اور اس کے بعد ریاستی درجہ۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حد بندی کا عمل مکمل ہوگیا اور انتخابات بھی ہوئے، جن میں لوگوں نے جوش و خروش اور اپنی مرضی سے حصہ لیا، لیکن ریاستی درجہ اب تک بحال نہیں کیا گیا۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہم انتظار کرتے رہے۔ عوامی طور پر، نجی طور پر، ہر ملاقات اور ہر فورم پر ہم نے حکومت ہند کو جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدے کی یاد دہانی کرائی۔ لیکن وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ آج ہم اس ایوان کے ذریعے حکومت ہند کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اس کے وعدوں کے بارے میں آخرکار کچھ کیا جانا چاہیے۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس وعدے کو اپنے نام سے منسوب کیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ایک تقریب میں موجود تھے، جہاں قائد حزب اختلاف بھی موجود تھے اور دیگر لوگ بھی۔ میں نے اپنی تقریر میں ریاستی درجے کی بات کی اور کہا کہ یہ حکومت ہند کا وعدہ ہے۔ جب وزیر اعظم نے اپنی تقریر کی تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی وعدہ نہیں ہے، یہ مودی کا وعدہ ہے، یعنی یہ عام وعدے سے بڑھ کر ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ پھر اس وعدے کو پورا کیوں نہیں کیا جا رہا؟انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف ہر دوسرے یا تیسرے دن ریاستی درجے کے بارے میں کوئی نہ کوئی بیان دیتے ہیں، اس لیے حکومت نے مناسب سمجھا کہ اس مسئلے پر اسمبلی میں بحث کی جائے۔

                وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور ایس کے آئی ایم ایس سے متعلق فائلیں منتخب حکومت تک نہیں پہنچتیں۔

                قرارداد کے ابتدائی متن میں اٹانومی سے متعلق قرارداد کا حوالہ دیے جانے کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ حوالہ اس لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ کسی کو اس کی ’’غلط تشریح‘‘ کرنے کا موقع نہ ملے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ہم نے اسے ابتدا میں شامل نہ کیا ہوتا تو ہمارے کچھ دوست یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے باقی معاملات ترک کردیے ہیں اور صرف ریاستی درجے تک محدود ہوگئے ہیں۔ اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ ان قراردادوں کی اپنی جگہ ہے۔ یہ قرارداد نہ انہیں منسوخ کرتی ہے، نہ ان کو ماتحت کرتی ہے اور نہ ہی انہیں نظر انداز کرتی ہے۔‘‘

                مکمل ریاست کی بحالی سے متعلق قیاس آرائیوں پر وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم وقتاً فوقتاً یہ سنتے ہیں کہ ہمیں آدھی ریاست ملے گی، چوتھائی ریاست ملے گی یا ایسی ریاست ملے گی جس کے پاس امن و قانون کا اختیار نہیں ہوگا۔ جناب، ہمیں ایسی ریاست نہیں چاہیے۔ ہم سے مکمل ریاست کا وعدہ کیا گیا تھا اور ہم مکمل ریاست واپس چاہتے ہیں۔‘‘

                عمر عبداللہ کی تقریر ختم ہوتے ہی بی جے پی ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔

                بی جے پی کے رکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیا نے کہا کہ حکومت عوام کے مسائل پر بحث نہیں کر رہی بلکہ ’’خود اختیاری‘‘ پر بحث کرنا چاہتی ہے۔

                اس کے جواب میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ’’اپنا حق لے کے رہیں گے‘‘، ’’جو ریاستی درجہ نہ دے سکے، وہ سرکار ناکام ہے‘‘ اور ’’چھین کے لیں گے اپنا حق‘‘ جیسے نعرے لگائے۔

                منکوٹیا نے جواب میں ’’جموں کشمیر کے لوگوں کے دشمن ہی ہیں‘‘ کا نعرہ لگایا۔

                بی جے پی ارکان نے ’’خود اختیاری کی قرارداد نہیں چلے گی‘‘، ’’جو کشمیر ہمارا ہے وہ سارے کا سارے ہے‘‘، ’’جہاں ہوئے قربان مکھرجی، وہ کشمیر ہمارا ہے‘‘، ’’علی بابا کے چالیس چور‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔

                ہنگامہ آرائی جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کردی۔ ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی بی جے پی کا احتجاج جاری رہا۔ اسپیکر نے بتایا کہ قرارداد پر بحث پیر کو ہوگی۔

                بی جے پی کے آر ایس پٹھانیا نے اسپیکر سے سوال کیا کہ قرارداد کو کس ضابطے کے تحت پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔

                بحث میں شامل ہوتے ہوئے وزیر ساکینہ ایتو نے بی جے پی ارکان سے سوال کیا کہ آرٹیکل۳۷۰؍اور ریاستی درجہ ’’کس قانون کے تحت واپس لیا گیا‘‘۔بی جے پی ارکان ایک بار پھر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ’’ملک دشمن ایجنڈا نہیں چلے گا‘‘ جیسے نعرے لگانے لگے۔

                اسی دوران پی ڈی پی ارکان نے آرٹیکل۳۷۰کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے پلے کارڈز اٹھائے۔

                ہنگامہ آرائی کے دوران بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے ایک کرسی پکڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد مارشلز نے انہیں ایوان سے باہر نکال دیا۔بعد ازاں جمعہ کی نماز کے پیش نظر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔

                ایوان کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی خود اختیاری یا آرٹیکل۳۷۰سے متعلق کسی بحث یا قرارداد کو ایوان میں آگے نہیں بڑھنے دے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’ریاستی درجے کی قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کیلئےبی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ریاستی درجے کی قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کیلئےبی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا‘
اہم ترین

’ریاستی درجے کی قرارداد پر ووٹنگ سے بچنے کیلئےبی جے پی ارکان نے ہنگامہ کیا‘

2026-09-26
ریاستی درجے پر بحث کیلئے تیار‘۳۷۰ پر نہیں :بی جے پی
اہم ترین

ریاستی درجے پر بحث کیلئے تیار‘۳۷۰ پر نہیں :بی جے پی

2026-09-26
کانگریس پارٹی کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ
اہم ترین

کانگریس پارٹی کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

2026-09-26
وزیر اعلیٰ کا بجٹ اعلانات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ
اہم ترین

بی جے پی ایک لفظ بھی دکھائے جو قرارداد میں ملک دشمن ہو: عمر عبداللہ

2026-09-26
’مرکزی حکومت نے بینکوں میں پانچ روزہ ہفتہ کار کی منظوری کبھی نہیں دی‘
اہم ترین

’مرکزی حکومت نے بینکوں میں پانچ روزہ ہفتہ کار کی منظوری کبھی نہیں دی‘

2026-09-26
سرینگر سڑک حادثے میں دو؍افراد ہلاک ‘ایک زخمی
اہم ترین

اودھم پور میں بس اور اسکوٹی کے تصادم میں خاتون جاں بحق

2026-09-26
محبوبہ کا ایمز اونتی پورہ کا جائزہ اجلاس آئینی بے ضابطگی:لون
اہم ترین

سجاد لون کی ریاستی درجے  کی بحالی کی قرارداد کی  مخالفت پر بی جے پی پر تنقید

2026-09-26
معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری پر اسمبلی میں ہنگامہ
اہم ترین

صحافتی بہبود اسکیم کے تحت کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی‘ حکومت کا اسمبلی میں بیان

2026-09-26

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.