کیف/واشنگٹن، 23 ستمبر (یو این آئی) یوکرین امریکہ کے ساتھ ڈرون دفاع کے شعبے میں ایک اہم معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ معاملے سے واقف تین ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے۔
ذرائع کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں، تاہم امکان ہے کہ معاہدے کو بعد کی کسی تاریخ میں حتمی شکل دی جائے، جب امریکہ بھی دستخط کے لیے تیار ہو۔
گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی محکمہ دفاع اور یوکرین کی وزارت دفاع نے ایک ایسا فریم ورک تیار کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کی افواج امریکہ میں یوکرینی دفاعی ٹیکنالوجی کی آزمائش اور اس کی تیاری کے عمل کو وسعت دے سکیں گی۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران یوکرین کی دفاعی صنعت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی اہمیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مزید واضح ہوئی ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی تنصیبات کو ’شاہد‘ یک طرفہ حملہ آور ڈرونز سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ روس بھی یوکرین کے شہروں پر حملوں کے لیے اسی نوعیت کے ڈرون استعمال کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور خلیجی ممالک کے پاس ابتدائی طور پر ان ڈرونز کو کم لاگت میں روکنے کے مؤثر ذرائع موجود نہیں تھے، چنانچہ کیف نے مدد کے لیے ڈرون شکن طیارے اور پائلٹ بھیجے۔
اس کے بعد یوکرین سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔ ان معاہدوں کے ذریعے غیر ملکی مالی معاونت کو یوکرین کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین رواں سال ایک کروڑ ڈرون تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سابق امریکی وزیرِ فوج ڈین ڈرسکول کے مطابق امریکی فوج نے 2025 میں تقریباً 50,000 ڈرون حاصل کیے تھے۔ تاہم ماہرین کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ یوکرین کی برتری صرف ڈرونز تک محدود نہیں، بلکہ اصل اہمیت ان کے سافٹ ویئر، آپریٹرز اور ان ٹیموں کی ہے جو میدانِ جنگ کے بدلتے حالات کے مطابق ان میں مسلسل بہتری لاتی رہتی ہیں۔
یوکرینی دفاعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والی امریکی وینچر کیپیٹل فرم ’گرین فلیگ وینچرز‘ کی بانی شراکت دار ڈیبورا فیئرلمب نے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ صرف ٹیکنالوجی خرید لینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مغرب کو یہ بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی رکھنے کا نہیں، بلکہ اس کے مؤثر استعمال کا ہے۔ یوکرین کی معلومات، مہارت اور تجربہ بھی ٹیکنالوجی کے ساتھ منتقل ہونا چاہیے۔ یہ ایسی رائفل نہیں کہ صرف نشانہ لگا کر چلا دی جائے۔‘‘
ایران جنگ کے ابتدائی دنوں کی کچھ پہلے منظر عام پر نہ آنے والی تفصیلات بھی اس چیلنج کی عکاسی کرتی ہیں۔





