نیویارک، 22 ستمبر (یو این آئی) جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائیچی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں سلامتی کونسل میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے موجودہ ڈھانچے میں اب بھی 1945 کی دنیا کی عکاسی ہوتی ہے، جبکہ آج کی جغرافیائی سیاسی حقیقتیں اس سے کہیں مختلف ہیں۔
جاپان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے تاکائیچی نے کہا کہ اب رکن ممالک کی اکثریت سلامتی کونسل میں مستقل اور غیر مستقل دونوں نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو ’’زیادہ مضبوط اور مؤثر اقوام متحدہ‘‘ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تاکائیچی نے اپنے خطاب کا آغاز یہ کہتے ہوئے کیا کہ عالمی نظام بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت، دنیا بھر کے تنازعات میں شہریوں کی ہلاکتوں، زندگی گزارنے کی لاگت کے دباؤ اور ترقیاتی اہداف پر پیش رفت رک جانے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کو درپیش بڑھتے خطرات کی نشاندہی کی اور خبردار کیا کہ کھاد کی سپلائی چین میں خلل افریقہ اور ایشیا میں غذائی بحران کے خطرات بڑھا رہا ہے۔
جاپانی وزیر اعظم نے روس کے یوکرین پر حملے کو سلامتی کونسل کی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے لیے خصوصی ذمہ داری رکھنے والے ایک مستقل رکن نے جارحیت کی جنگ شروع کی اور ساتھ ہی اپنے ہی طرز عمل سے متعلق قراردادوں کو روک دیا۔
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے تاکائیچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ جہاز رانی کو بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں اور خبردار کیا کہ اس میں خلل کے اثرات صرف علاقائی سلامتی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے علاقائی شراکت داروں اور بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
جاپان کے جنگ کے بعد کے ’’جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا‘‘ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تاکائیچی نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے سائبر حملوں، جن میں کرپٹو کرنسی کی چوری بھی شامل ہے، کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرنے کی مذمت کی اور انہیں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کئی دہائیاں قبل اغوا کیے گئے جاپانی شہریوں کی واپسی کے ٹوکیو کے مطالبے کو بھی دہرایا اور کہا کہ متاثرین کے اہل خانہ عمر رسیدہ ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ 2002 کے جاپان-ڈی پی آر کے پیانگ یانگ اعلامیے کی شرائط کے تحت شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
اقتصادی سلامتی کے حوالے سے وزیر اعظم نے جاپان کی ’’اپ ڈیٹڈ ایف او آئی پی‘‘ یعنی آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا، جسے مئی میں شروع کیا گیا تھا۔ اس حکمت عملی کے تین بنیادی ستون ہیں: توانائی اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کا تحفظ، امن و استحکام کے لیے کوششوں کو مضبوط بنانا اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کا دفاع۔
انہوں نے اس سلسلے میں ’پاور ایشیا‘ توانائی شراکت داری، خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کے منصوبے اور اہم معدنیات کے لیے ’رائز پارٹنرشپ‘ کا ذکر کیا۔ اس میں عالمی بینک کے بنیادی ڈھانچے کے فنڈ کے لیے جون میں اعلان کردہ 20 ملین ڈالر کی جاپانی امداد بھی شامل ہے۔
تاکائیچی نے جاپان کے ترقیاتی ریکارڈ کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 1956 میں اقوام متحدہ میں شمولیت کے بعد سے جاپان 670 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرکاری ترقیاتی امداد فراہم کر چکا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ جاپان آئندہ سال یوکوہاما میں بحرالکاہل کے جزائر کے رہنماؤں کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس کے علاوہ سینڈائی میں اقوام متحدہ کی آفات سے نمٹنے اور خطرات میں کمی سے متعلق کانفرنس اور 2027 کی عالمی باغبانی نمائش بھی منعقد ہوگی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور سبز تبدیلی سے متعلق کوششوں کے ساتھ ساتھ جاپان کے ’’ہیروشیما اے آئی پراسیس‘‘ کا بھی ذکر کیا، جو جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی حکمرانی سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اے آئی سے متعلق ایک سربراہ اجلاس کی میزبانی کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر تاکائیچی نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود فرسودہ ’’دشمن ریاستوں‘‘ سے متعلق شقوں کو ختم کرنے پر زور دیا، جن میں جاپان اور جرمنی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے 2005 کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کا حوالہ دیا جس میں ان شقوں کو حذف کرنے کی اپیل کی گئی تھی، تاہم رکن ممالک نے اب تک انہیں باضابطہ طور پر ختم کرنے کے لیے کارروائی نہیں کی ہے۔






