یروشلم، 23 ستمبر (یو این آئی) اسرائیل نے بدھ کو کہا کہ اس کی فوج نے جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک کارروائی کے دوران محمد ابو علوان کو ہلاک کر دیا، جسے اسرائیل نے حماس کے مالیاتی شعبے کا سربراہ بتایا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس کارروائی میں حماس کے مالیاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔
نیتن یاہو اور کاٹز نے ایکس پر جاری مشترکہ بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور ملک کی داخلی سلامتی ایجنسی شاباک (شن بیت) کی اس کارروائی کے لیے تعریف کی، جسے انہوں نے ’’درست اور انتہائی ہدفی کارروائی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم حماس کے کمانڈروں، اس کے مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم حماس کو دوبارہ اپنی طاقت بحال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک غزہ میں حماس باقی نہیں رہتی۔‘‘
فلسطینی طبی حکام کے مطابق، ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں مغربی خان یونس سے گزرنے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں ابو علوان کے ساتھ اسامہ ابو خاطر نامی ایک اور شخص بھی ہلاک ہوا، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔
آئی ڈی ایف نے فوری طور پر اس حملے کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے الگ سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔
اسرائیلی کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بورڈ آف پیس غزہ کی بحالی کے لیے چھ ماہ پر مشتمل 2.45 ارب ڈالر کے منصوبے کو پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں 66 منصوبے شامل ہیں، جن میں عارضی رہائش گاہوں کی تعمیر، ملبہ ہٹانا، اسپتالوں کی مرمت، اقتصادی بحالی اور ایک کثیر قومی سکیورٹی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
منصوبے میں سرحدی گزرگاہوں اور تباہ شدہ پانی و بجلی کے نیٹ ورک کی مرمت کے ساتھ ساتھ 25 ہزار قابلِ نقل شمسی توانائی کٹس کی تقسیم بھی شامل ہے۔
تجویز کے مطابق جنگ کے نتیجے میں غزہ بھر میں تقریباً 35.2 ارب ڈالر کا مادی نقصان ہوا ہے، جبکہ مکمل بحالی اور تعمیر نو پر آئندہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 71.4 ارب ڈالر لاگت آنے کا امکان ہے۔ منصوبے میں ترجیحی بنیادوں پر تعمیر نو کے لیے منتخب علاقوں کے نیچے موجود سرنگوں کو مستقل طور پر بھرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن غزہ میں جنگ کے بعد سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مجوزہ کثیر قومی استحکامی فورس کے لیے 206 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔
اس رقم کو اس اقدام کے لیے امریکہ کی جانب سے پہلی بڑی مالی معاونت قرار دیا گیا تھا۔ یہ رقم فورس کے لیے بنیادی ڈھانچے، گاڑیوں، آلات اور آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔






