نیویارک، 22 ستمبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو منگل کے روز اقوام متحدہ میں سفارت کاری کے ایک مصروف دن کا سامنا ہے، جہاں یوکرین اور ایران میں جاری جنگیں یورپ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت میں نمایاں طور پر زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی سے گریسی مینشن میں ملاقات کی تھی۔
ٹرمپ نے پیر کو نیویارک میں اپنی مصروفیات کا آغاز گریسی مینشن کے دورے سے کیا، جو میئر کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ وہاں انہوں نے ممدانی کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔ ملاقات سے قبل ٹرمپ نے اس تاریخی رہائش گاہ کو ’’دنیا میں میری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا اور نیویارک کے سابق میئروں کے ساتھ اپنے سابقہ دوروں کو یاد کیا۔
ٹرمپ اور ممدانی کے درمیان یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کی سلسلہ وار ملاقاتوں میں تازہ ترین تھی۔ دونوں کے سیاسی نظریات میں نمایاں اختلافات ہیں، تاہم وہ نیویارک کو درپیش مسائل پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی گفتگو میں رہائش اور شہر میں زندگی گزارنے کی لاگت کم کرنے کی کوششیں بھی شامل رہی ہیں۔
ٹرمپ کے منگل کے پروگرام میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد یورپ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ طے شدہ ملاقاتوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی، وینزویلا کی عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز، ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم ینس فریڈرک نیلسن کے علاوہ کئی خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت شامل ہے۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات میں ایک ایسے معاہدے پر بھی توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے جس کا مقصد گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی کو وسعت دینا ہے۔ یہ آرکٹک خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی واشنگٹن کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
زیلنسکی کے ساتھ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب یوکرین روسی حملوں کے درمیان مسلسل امریکی حمایت کا خواہاں ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے کسی انتظام پر زور دے رہا ہے۔ یہ بات چیت روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جاری جنگ کے پس منظر میں ہو رہی ہے، جو اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے ایجنڈے کے مرکزی موضوعات میں شامل ہے۔
ٹرمپ کی خلیجی رہنماؤں کے ساتھ بھی بات چیت متوقع ہے، جبکہ امریکہ اور ایران ایک ایسے تنازع میں الجھے ہوئے ہیں جس نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی توقعات کے درمیان منگل کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم سفارتی پیش رفت کے امکانات بدستور غیر یقینی رہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں 193 رکن ممالک کے نمائندے سالانہ اعلیٰ سطحی ہفتے کے لیے نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں۔ عام بحث 22 سے 26 ستمبر تک جاری رہے گی اور 28 ستمبر کو دوبارہ شروع ہوگی، جس سے تنازعات، بین الاقوامی سلامتی اور دیگر عالمی امور پر تبادلہ خیال کے لیے وسیع پلیٹ فارم فراہم ہوگا۔







