ماسکو، 22 ستمبر (اسپوتنک/یو این آئی) جی 7 ممالک نے شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قابض شیعہ تحریک انصار اللہ (حوثیوں) سے تمام فوجی کارروائیاں اور شہری بحری جہازوں کے خلاف حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات کے بعد جی 7 کے بیان کے حوالے سے کہا، ’’ہم حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام فوجی کارروائیاں، شہری جہاز رانی کے خلاف تمام دھمکیاں اور حملے فوری طور پر بند کریں اور نیک نیتی کے ساتھ سیاسی عمل کی جانب واپس آئیں۔‘‘
جی 7 ممالک نے اپنے مشترکہ بیان میں سعودی عرب کی سرزمین پر حوثیوں کے حملوں کی بھی مذمت کی۔
حوثیوں نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے یمن پر کیے گئے حملوں کے جواب میں سعودی دارالحکومت ریاض میں اہم تزویراتی اہداف اور مغربی سعودی عرب میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر میزائل حملے کیے ہیں۔ تحریک نے مزید کہا تھا کہ ان حملوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
یمن کی صورتحال جولائی کے وسط میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی تھی جب حکومت نواز فورسز نے صنعاء کے ہوائی اڈے کو اس وقت نشانہ بنایا جب ایران سے آنے والا ایک طیارہ حوثی رہنماؤں کے ایک وفد کو لے کر وہاں اتر رہا تھا۔ حوثیوں نے اس واقعے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں کی ناکہ بندی ختم کیے جانے تک سعودی عرب کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں نے جنوب مغربی اور مغربی یمن میں اہم پیش قدمی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے قریب متعدد آبادیوں پر قبضہ کرلیا ہے، جن میں اہم بندرگاہ موخا بھی شامل ہے۔








