نئی دہلی، 18 ستمبر (یو این آئی) اردو صحافت کو بابائے صحافت قرار دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دہلی اردو اخبار کے مدیر مولوی باقر نہ صرف پہلے شہید صحافی تھے بلکہ باضابطہ صحافت کا داغ بیل ڈالنے والے پہلے صحافی تھے۔ یہ بات مقررین نے پریس کلب آف انڈیا میں مولوی محمد باقر کی 169ویں برسی کی تقریب پر منعقدہ ایک پرگرام میں کہی۔
سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے مولوی باقر کی جنگ آزادی صحافت کے حوالے سے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں دہلی اردو اخبار کے ذریعے جنگ آزادی میں روح پھونکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے انگریزوں کے مظالم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لوگوں تک انگریزوں کے مظالم کی خبریں پہنچائیں۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حقِ اطلاعات (آر ٹی آئی) ایکٹ میں ترامیم اور اس کی رسائی محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ قانون شفافیت، جواب دہی اور شراکتی جمہوریت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی نے عام شہریوں کو سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے اور انہیں جواب دہ بنانے کا عملی اختیار دیا ہے۔
سابق مرکزی وزیر مانی شنکر ایئر نے مولوی باقر کو مدیر کے ساتھ ساتھ ایک فعال فیلڈ رپورٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 1857 کے ہنگامہ خیز دور میں واقعات کی خود عینی شہادت حاصل کرنے کے لیے دہلی کی گلیوں میں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ باقر کی صحافت میں مختلف مذہبی برادریوں کو متحد کرنے والے ہندوستانی قوم پرستی کے تصور کی جھلک بھی ملتی ہے۔
فیڈریشن آف پریس کلبس آف انڈیا کے صدر گوتم لہری نے مولوی باقر کی قربانی کو صحافیوں کے لیے تحریک کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے پریس کلب آف انڈیا کی مینجنگ کمیٹی میں اردو صحافیوں کو مزید نمائندگی دینے اور آزادیٔ صحافت کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے پریس تنظیموں کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
پریس کلب آف انڈیا کی صدر سنگیتا بروآ پشروتی نے کہا کہ تاریخی دستاویزات صحافیوں کو اپنے عہد کے واقعات، زبان اور ماحول کے ریکارڈ کے طور پر دیکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے صحافتی ورثے کی زیادہ سے زیادہ دستاویز بندی اور 1857 کے واقعات سے متعلق تاریخی ذمہ داری اور جواب دہی کے سوالات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انڈیا ٹومارو کے چیف ایڈیٹر سید خلیق احمد نے کہا کہ مولوی محمد باقر کو ہندوستانی صحافت کی تاریخ میں ان کا جائز مقام نہیں ملا۔ انہوں نے صحافت کے نصاب میں باقر کی زندگی اور خدمات پر الگ باب شامل کرنے اور ان پر ہونے والی تحقیق کو انگریزی، ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں منتقل کرنے کی اپیل کی۔
تقریب کی نظامت سینئر صحافی اے یو آصف نے کی اور کہا کہ مولوی باقر گراونڈ رپورٹنگ اور تفتیشی صحافت کے بانی تھے۔انہوں نے گلی گلی محلے محلے جاکر اس وقت رپورٹنگ کی جب اس کا تصور تک نہیں تھا۔انہوں نے تفتیشی صحافت کی داغ بیل ڈالی اور وعام کو بے باک صحافت سے روبرو کرایا۔انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آرکائیز دہلی اردو اخبار کی نقل میڈیا ہاوس اور میڈیا کی تعلیم سے متعلق ادارے میں رکھی جائے تاکہ صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نہ صرف اس سے روبرو ہوں گے بلکہ اس سے استفادہ بھی کریں گے۔
اس کے علاوہ مقررین نے کہا کہ مولوی باقر کی زمینی رپورٹنگ، واقعات کی دستاویز بندی اور جامع قوم پرستی کا تصور آج بھی صحافیوں کے لیے اہم ہے۔ تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ باقر کو یاد کرنا آزاد پریس، معلومات تک رسائی، شفافیت اور جواب دہ صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
واضح رہے کہ مولوی محمد باقر کو 16 ستمبر 1857 کو برطانوی حکمرانی کے خلاف جدوجہد کے دوران دہلی گیٹ کے باہر شہید کیا گیا تھا۔ وہ دہلی اردو اخبار کے مدیر تھے اور انہیں ہندوستانی صحافت میں ابتدائی قوم پرست اور تحقیقاتی صحافت کے علم برداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔








