اشنگٹن، 8 ستمبر (یو این آئی) امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے منصوبوں پر خاموشی سے غور کر رہے ہیں، اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
امریکی موجودگی میں کوئی بھی نمایاں کمی واشنگٹن کی اس خطے سے متعلق پالیسی میں ایک اور بڑی تبدیلی ہوگی، جہاں مسلسل آنے والے امریکی صدور نے امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کا وعدہ کیا، لیکن نئے سکیورٹی خطرات سامنے آنے کے بعد بار بار مشرق وسطیٰ کی جانب واپس آئے۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے خطے بھر میں فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا، جس کے ذریعے عراق، افغانستان، شام، یمن اور لیبیا سمیت مختلف ممالک میں جنگوں، انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور حملوں میں معاونت فراہم کی گئی۔تاہم ایران کے ساتھ جنگ نے اس بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ خطے بھر میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو ایران کے بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس تنازع میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان اندرونی مشاورت میں شامل حکام نے بتایا کہ بعض منصوبہ بندی اس کوشش کے تحت کی جا رہی ہے کہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیا اقدامات قبول کر سکتے ہیں، اس کا پہلے سے اندازہ لگایا جائے۔ ذرائع کے مطابق صدر نے خطے کے لیے طویل مدتی کوئی واضح حکمت عملی وضع نہیں کی ہے، تاہم بیرون ملک امریکی فوجی ذمہ داریوں میں کمی طویل عرصے سے ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ رہی ہے۔ سی این این نے یہ اطلاع دی۔
ان بات چیت کے باوجود امریکہ کے پاس اب بھی مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50,000 فوجی اور نمایاں فوجی اثاثے موجود ہیں، جن میں 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر شامل ہیں۔
سی این این نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں لڑائی کے شدید ترین مرحلے کے دوران خطے سے واپس بلائے گئے سی آئی اے کے اہلکاروں کو بھی دوبارہ وہاں بھیجا جا رہا ہے۔
اسی دوران پینٹاگن خطے میں باقی رہنے والی متوقع امریکی فوجی دستوں کے تحفظ کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ بات چیت سے واقف 2 ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں بعض فوجی تنصیبات کو زیر زمین منتقل کرنا بھی شامل ہے تاکہ اہلکاروں اور سازوسامان کو میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پینٹاگون کئی برس سے خطے میں زیر زمین تنصیبات کے امکان پر غور کرتا رہا ہے، تاہم ایران کے حملوں نے اس تجویز کو نئی فوری اہمیت دے دی ہے۔
امریکی فوج ان فوجیوں کے لیے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے جو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی خطے میں موجود رہنے کی توقع ہے۔ اس میں بعض تنصیبات کو زیر زمین منتقل کرنا بھی شامل ہے تاکہ ایران کی جانب سے کئی ماہ تک جاری رہنے والے تنازع کے دوران کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں جیسے خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اگرچہ پینٹاگون طویل عرصے سے خطے کے بعض فوجی اڈوں کو زیر زمین منتقل کرنے پر غور کرتا رہا ہے، لیکن جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے بعد اس خیال کو نئی اہمیت حاصل ہوئی، جب ایران نے ظاہر کیا کہ یہ تنصیبات ڈرون اور میزائل حملوں کے لیے کس قدر کمزور ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’کمزوریاں ہمیشہ سے معلوم تھیں، لیکن امریکا نے کبھی ان کے تدارک کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے۔‘‘
2 ذرائع کے مطابق امریکی فوج نے آئندہ سال ہی سے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کی ازسرنو تشکیل کے لیے متعدد ممکنہ منصوبے تیار کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی جاری رہنے کے دوران بڑی تعداد میں فوجیوں کی واپسی مشکل ہوگی کیونکہ موجودہ اڈے فوجی کارروائیوں کے آغاز اور ان کی معاونت کے لیے تزویراتی اعتبار سے اہم مقامات فراہم کرتے ہیں۔





