ایجنسیاں
بھارت کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت میں برکس ممالک نے ہفتہ کو منظور کیے گئے نئی دہلی اعلامیے میں اپریل۲۰۲۵ میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ریاستی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کا مطالبہ کیا۔
’ریزلیئنس، انوویشن، کوآپریشن اینڈ سسٹین ایبلٹی‘ کے عنوان سے جاری جامع اعلامیے میں عالمی دہشت گردی، غیر قانونی مالیاتی بہاؤ، سائبر فراڈ اور سرحد پار ابھرنے والے فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف بلاک کے رکن ممالک نے متحدہ مؤقف اختیار کیا۔
اعلامیے میں سکیورٹی سے متعلق اہم نکات کے تحت۲۲؍ اپریل۲۰۲۵ کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی، جس میں۲۶؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ دہشت گردی کی تمام کارروائیاں مجرمانہ اور ناقابل جواز ہیں، خواہ ان کے محرکات کچھ بھی ہوں، وہ کہیں بھی اور کسی کی جانب سے بھی انجام دی جائیں۔
برکس رہنماؤں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے، دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو مسمار کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
رکن ممالک نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث تمام افراد کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اگرچہ برکس اعلامیے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی کسی ریاست کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا، تاہم اس میں سرحد پار دہشت گردوں کی نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا۔
برکس رہنماؤں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کریں اور دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کو مسترد کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد تمام دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر بھی زور دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا، ’’ہم انتہا پسندی اور بنیاد پرستی، خصوصاً نوجوان نسل میں، کے تدارک کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں اور برکس ممالک اور ان کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، جس میں بہترین طریقہ کار کا تبادلہ بھی شامل ہے۔‘‘
برکس نے جولائی۲۰۲۵ میں ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ گزشتہ سربراہ اجلاس میں بھی پہلگام حملے کی مذمت کی تھی۔ ریو اعلامیے میں بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح کی مذمت گزشتہ سال ستمبر میں تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں بھی سامنے آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
نئی دہلی؍۱۲ ستمبر










