سری نگر؍۱۲ستمبر
شمالی فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے ہفتہ کو جنوبی کشمیر میں کاؤنٹر ٹیررازم گرڈ اور موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
فوجی کمانڈر نے کامیاب اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے لیے موافقت، درستگی، مسلسل چوکسی اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو کلیدی عوامل قرار دیا۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے فوری طور پر نمٹنے کی صلاحیت برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
شمالی کمان نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، آرمی کمانڈر ناردرن کمانڈ، نے جنوبی کشمیر میں کاؤنٹر ٹیررازم گرڈ کا جائزہ لیا، جہاں انہیں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
دریں اثنا ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) جموں و کشمیر پولیس نلن پر بھت نے ہفتہ کو جموں پولیس کے افسران کے ساتھ ایک اجلاس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال اور نارکو ٹیرر ماڈیولز کے خلاف جاری کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں جموں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ابھرتے ہوئے چیلنجز اور دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور دونوں کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پربھات نے سکیورٹی انتظامات، آپریشنل تیاری اور نارکو ٹیرر نیٹ ورکس سے متعلق تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ افسران نے انہیں منشیات کی ترسیل اور دہشت گردی سے منسلک سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کی شناخت اور ان کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
ڈی جی پی نلن پر بھت نے مختلف سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری، مؤثر انٹیلی جنس جمع کرنے اور نارکو ٹیرر سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
پر بھات نے افسران کو ہدایت دی کہ چوکس رہیں، نگرانی کا نظام مزید مضبوط کریں اور منشیات کی اسمگلنگ یا دیگر ذرائع سے دہشت گردی کو سہولت فراہم کرنے والے افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ڈی جی پی نے حساس اور کمزور علاقوں میں پولیسنگ کے انتظامات اور سکیورٹی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے احتیاطی تدابیر، پیشہ ورانہ انداز میں تحقیقات اور قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر فوری کارروائی کی اہمیت اجاگر کی۔
پولیس سربراہ نے افسران پر زور دیا کہ وہ ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے حوالے سے چوکس رہیں اور دہشت گردی و نارکو ٹیررازم کو تقویت دینے والے پورے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مربوط کوششیں یقینی بنائیں۔
اجلاس کے اختتام پر جموں خطے کی سکیورٹی اور امن کے تحفظ کے لیے مسلسل آپریشنل تیاری برقرار رکھنے اور کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی ہدایات دی گئیں۔
۔۔۔۔۔










