سری نگر؍۱۲ ستمبر
جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) ملازمین کی جاری ہڑتال ہفتہ کو چوتھے روز میں داخل ہوگئی، جس کے باعث صحت کی خدمات متاثر ہوئیں۔ ملازمین نے اپنی ہڑتال میں مزید۷۲ گھنٹے کی توسیع کرتے ہوئے اسے پیر تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
جموں و کشمیر نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کی یوٹی سطح کی رابطہ کمیٹی کے بینر تلے احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے دیرینہ مطالبات پر تحریری یقین دہانی فراہم کیے جانے تک ہڑتال جاری رہے گی۔
ملازمین نے کہا کہ یکم اور۲؍ اپریل کو کی گئی سابقہ ہڑتال کے دوران حکومت نے ان کے مطالبات پر غور کرنے اور ایک روڈ میپ تیار کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت مانگا تھا، تاہم ان کے مطابق کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔
ملازمین کے مطالبات میں تنخواہوں پر نظرثانی، سماجی تحفظ کے فوائد، ریٹائرمنٹ فوائد اور گولڈن ہینڈ شیک سمیت دیگر امور شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو ہڑتال دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے سے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا اور اب وہ واضح ٹائم لائن کے ساتھ تحریری یقین دہانی چاہتے ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے ہڑتالی ملازمین سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر، فارماسسٹ، پیرا میڈیکل عملہ اور این ایچ ایم کے دیگر ملازمین حساس نوعیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں ایسے احتجاج سے گریز کرنا چاہیے جس سے طبی خدمات متاثر ہوں۔
سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت چھٹیوں کی تنخواہ اور پنشن سے متعلق مسائل کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ این ایچ ایم ملازمین سے متعلق ایک تجویز پہلے ہی حکومت ہند کو بھیجی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مرکزی وزارت صحت کے حکام کے سامنے ملازمین کے مسائل اٹھائے ہیں اور نئی دہلی کو اس حوالے سے یاددہانی بھی بھیجی جائے گی۔
وزیر صحت نے کہا، ’’چونکہ یہ ہمارے اپنے لوگ، ہمارے اپنے بچے، بہنیں اور بھائی ہیں، اس لیے ہم ایسے اقدامات نہیں کرنا چاہتے جن سے انہیں مشکلات کا سامنا ہو۔ میں ایک بار پھر ان سے اپیل کرتی ہوں کہ ہڑتال ختم کرکے کام پر واپس آجائیں۔‘‘
وزیر نے بی جے پی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ ملازمین کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن معاملات کے لیے مرکز کی منظوری درکار ہے، ان کی ذمہ داری دہلی میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










