پیرس، 8 ستمبر (یواین آئی) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہندو مذہبی تنظیم بوچاسن واسی اکشر پرشوتم سوّامِی نارائن سنستھا کے دورے کے دوران خاتون ملازمین کو مبینہ طور پر الگ رکھے جانے کے خلاف ملازمین کی ہڑتال کے بعد پیر کو بند کیا گیا ایفل ٹاور منگل کو دوبارہ کھول دیا گیا۔
تنظیم نے تاہم کہا کہ اس کا دورہ ایفل ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ پہلے سے طے شدہ تھا اور کسی بھی شخص کو داخلے سے نہیں روکا گیا تھا۔ تنظیم نے اس واقعے سے کسی کو ہونے والی زحمت یا دل آزاری پر معذرت بھی کی۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، ’’ہم اٹھائے گئے خدشات کو سمجھتے ہیں اور انہیں انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ہمارے وفد کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے، دیگر زائرین کو کم سے کم زحمت ہو، اس مقصد کے لیے ایفل ٹاور کی ٹیم کے ساتھ رابطہ کرکے دورے کا اہتمام ٹاور کے معمول کے اوقات میں کھلنے کے ساتھ ہی کیا گیا تھا۔‘‘
بیان میں کہا گیا، ’’ہماری معلومات کے مطابق کسی بھی وقت کسی شخص کو ایفل ٹاور میں داخل ہونے سے نہیں روکا گیا۔ اس کے باوجود اگر اس صورتحال سے کسی کو دل آزاری یا زحمت ہوئی ہو تو ہم معذرت خواہ ہیں۔‘‘
تنظیم کے تقریباً 100 مرد ارکان اس تاریخی مقام کا دورہ کر رہے تھے۔ ایفل ٹاور کا انتظام چلانے والی کمپنی ایس ای ٹی ای نے کہا کہ تنظیم نے ایسا دورہ کرنے کی درخواست کی تھی جس میں ’خواتین سے رابطہ‘ محدود رکھا جانا تھا۔ ایس ای ٹی ای نے اس انتظام کو قبول کرنے کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ان شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘‘
ملازمین کی ہڑتال کے باعث ایفل ٹاور کو پیر کے روز بند کر دیا گیا تھا۔ زائرین کو وہاں ایک پیغام کے ذریعے بتایا گیا کہ انتظامی وجوہات کی بنا پر ٹاور کا کھلنا مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ملازمین نے ایک بیان میں مذہبی تنظیم کے دورے کے دوران ’’پیشہ ورانہ ہدایات کے باعث خاتون ملازمین کو ان کی جنس کی بنیاد پر الگ رکھنے، ان کی جگہ مردوں کو تعینات کرنے اور انہیں نظروں سے اوجھل رکھنے‘‘ کی مذمت کی۔
تنظیم نے اتوار کو پیرس کے قریب بوسی سینٹ جارج میں فرانس کے پہلے روایتی ہندو مندر کی پران پرتھشٹھا تقریب منعقد کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس تقریب سے ورچوئل خطاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ’’بھارت اور فرانس کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘






