تہران، 8 ستمبر (یو این آئی) ایران کی جانب سے قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کی رونمائی تہران کی دفاعی بازداریت کی حکمت عملی میں ممکنہ طور پر ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں ملک نے درست نشانہ سازی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور تنازع بڑھنے سے قبل دشمنوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت پر زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا یہ میزائل الیکٹرو آپٹیکل رہنمائی کے نظام سے لیس ہے اور نصف ٹن وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ایران کے بڑھتے ہوئے میزائل ذخیرے میں محض ایک اور میزائل کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کی تیاری اس تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جسے ایرانی حکام تیزی سے ایک بنیادی طور پر ردعمل پر مبنی مؤقف سے زیادہ فعال نوعیت کی بازداریت کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔
اس ابھرتی ہوئی حکمت عملی کے تحت ایران کا مقصد صرف حملے کے بعد جوابی کارروائی کرنا نہیں بلکہ اس وقت بھی ردعمل دینا ہوگا جب وہ یہ طے کرے کہ ایک سنگین اور فوری خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس سوچ کے مطابق مقصد ممکنہ حملے کے مکمل پیمانے پر پہنچنے سے پہلے ہی دشمن پر اس کی قیمت عائد کرنا ہے۔
یہ تبدیلی ایران کی میزائل، ڈرون، بحری اور جاسوسی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے اور اعلیٰ سطح کے ایرانی سکیورٹی حکام کے زیادہ جارحانہ بیانات کے درمیان سامنے آئی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت ایسی فوجی پوزیشن تشکیل دینے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے جو حملہ شروع ہونے سے پہلے دشمن کے منصوبوں کا پتا لگانے، اسے نشانہ بنانے کی دھمکی دینے اور ممکنہ طور پر اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہ نظریہ بازداریت کے روایتی فارمولے ’’وہ حملہ کریں، ہم جواب دیں‘‘ سے مختلف ہے۔ اس کے بجائے تہران ایسی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ یہ طے کر سکے کہ کسی خطرے کے اس کی نظر میں اہم حد عبور کرنے کے بعد کب اور کہاں جواب دینا ضروری ہے۔
قاسم بصیر کو اس حکمت عملی میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس کی مبینہ مار یا وار ہیڈ تک محدود نہیں بلکہ ایران جس قدر درست رہنمائی اور جدید میزائل دفاعی نظاموں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت پر زور دے رہا ہے، وہ بھی اہم ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے یہ اطلاع دی۔
جدید جنگ میں بیلسٹک میزائل کی بازدار صلاحیت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنی دور تک جا سکتا ہے یا اس کا وار ہیڈ کتنا بڑا ہے، بلکہ اس کی یہ صلاحیت بھی اہم ہے کہ وہ اہم اہداف کو درست نشانہ بنا سکے، دفاعی اقدامات سے بچ سکے اور تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کر سکے۔
لہٰذا ایران کی جانب سے قاسم بصیر کی پیشکش اس کے میزائل پروگرام میں وسیع تر ارتقا کی عکاسی کرتی ہے، جس میں بنیادی توجہ صرف مار اور تباہ کن طاقت پر رکھنے کے بجائے زیادہ درستگی، حملے سے بچاؤ کی صلاحیت اور مختلف اہداف میں امتیاز کرنے کی صلاحیت پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
اس ارتقا کے ساتھ جاسوسی اور ہدف بندی کے نظام، ڈرونز، جہاز شکن ہتھیاروں اور زیادہ فاصلے سے حملے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں میں سرمایہ کاری بھی جاری ہے۔ مجموعی طور پر یہ نظام ایران کو دشمن کے فوجی ڈھانچے اور دیگر تزویراتی اہداف کو خطرے میں رکھنے کے لیے زیادہ وسیع اختیارات فراہم کر سکتے ہیں۔
لہٰذا ایران کی ابھرتی ہوئی فوجی پوزیشن کا سب سے اہم پہلو ٹیکنالوجی کے بجائے اس کی جنگی حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔





