نئی دہلی، 8 ستمبر (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن كھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کے دہلی میں ہجوم کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کھرگے نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ وکرم سنگھ کا بے رحمانہ قتل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں پھیلی مبینہ بدامنی کی ایک اور ہولناک یاد بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں طلباء غیر محفوظ ہیں، خواتین کے خلاف ہر روز مظالم ہو رہے ہیں اور شمال مشرق کے لوگوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دلت، آدیواسی اور اقلیتیں بھی انتہائی غیر محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں دہلی جرائم کا دارالحکومت بن گئی ہے اور نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار قومی دارالحکومت میں مسلسل جرائم کی بلند سطح کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے وکرم سنگھ کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف ملنا چاہیے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے منی پور کے لوگ ریاست کے اندر اور باہر، دونوں جگہ پریشان ہیں۔
کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل کے روز قومی دارالحکومت میں مقیم شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت پر سوال اٹھاتے ہوئے دہلی میں منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کی موت پر تشویش کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل نے کہا کہ سنگھ کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے گھر کے باہر لوگوں کے ایک گروپ سے شور کم کرنے کی درخواست کرنے گئے تھے۔
راہل نے کہا کہ منی پور کے ایک معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ جی اپنے گھر کے باہر کچھ لوگوں سے شور کم کرنے کا کہنے کے لیے نیچے گئے۔ انہیں اس کی وجہ سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔
اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ ایک باپ کے اپنے ہی گھر کے باہر قتل نے دہلی میں شمال مشرق کے خاندانوں کو یہ پوچھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا وہ دارالحکومت میں محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک باپ کو اس کے اپنے ہی گھر کے باہر، اس کے اپنے ملک کے دارالحکومت میں قتل کر دیا گیا۔ ایسے کئی واقعات کے بعد آج دہلی میں شمال مشرق کا ہر خاندان یہی سوال پوچھ رہا ہے – کیا ہم یہاں محفوظ ہیں؟
انہوں نے پوچھا کہ شاہ کی وزارت داخلہ اور دہلی پولیس اس بڑھتی ہوئی لا قانونیت بالخصوص شمال مشرق کے لوگوں سے جڑے واقعات کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
کانگریس لیڈر نے اس قتل کی فوری تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑاکرنے کا مطالبہ کیا۔
راہل نے کہا کہ اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ وکرم جی کے خاندان کے ساتھ میری تعزیت ہے۔
اس قتل نے دہلی میں شمال مشرق کے لوگوں کی حفاظت سے متعلق خدشات اور تشدد و امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت کی طرف ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔ راہل کے تبصرے نے قومی دارالحکومت میں رہنے والے ملک بھر کے باشندوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری پر بھی روشنی ڈالی ہے۔






