برلن، 8 ستمبر (یواین آئی) جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت ’الٹرنیٹو فار جرمنی‘ (اے ایف ڈی) کی بڑی کامیابی نے ملک میں سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ جماعت نے ریاست میں اب تک کی اپنی بہترین انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے اور دیگر تمام جماعتوں کو کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اس کامیابی کو ’تشویشناک‘ قرار دیا۔
تاہم اے ایف ڈی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور وہ تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کسی جرمن ریاست میں دائیں بازو کی حکومت قائم کرنے کی اس کی امید پوری نہیں ہوسکی۔ سیکسنی انہالٹ میں جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی نے اے ایف ڈی کو ’مصدقہ دائیں بازو کی انتہا پسند‘ تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ ایسی صورتحال میں دیگر سیاسی جماعتوں نے اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے باعث مشرقی جرمنی کی اس ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل پیچیدہ ہوگیا ہے۔
انتخابات کے اگلے روز اے ایف ڈی کی شریک سربراہ ایلس وائڈل اور ٹینو کروپالا نے برلن میں ایک پریس کانفرنس کی۔ ان کے ساتھ سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں جماعت کے فاتح اور اہم امیدوار اولریخ زیگموند بھی موجود تھے۔
اگرچہ اے ایف ڈی اپنا بنیادی انتخابی ہدف، یعنی مکمل اکثریت حاصل کرکے تنہا حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، تاہم جماعت اب پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد نظر آ رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کا ہدف صرف سیکسنی انہالٹ تک محدود نہیں بلکہ وہ پورے جرمنی میں اقتدار حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
محترمہ وائڈل نے وفاقی سطح پر حکمران قدامت پسند اتحاد کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’سی ڈی یو/سی ایس یو اب کبھی بھی وفاقی انتخابات نہیں جیت سکے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ میرا اعلان کردہ ہدف یہ ہے کہ فرق کو جلد از جلد بڑھایا جائے اور اگلے وفاقی انتخابات میں کم از کم 40 فیصد ووٹ حاصل کیے جائیں۔‘‘
محترمہ وائڈل جرمنی کی اگلی چانسلر بننا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب چانسلر فریڈرک مرز اور سیکسنی انہالٹ کے وزیر اعلیٰ اور ان کی جماعت کے ساتھی سوین شولزے نے انتخابی نتائج کو قدامت پسند سی ڈی یو کے لیے ’ایک تباہی‘ قرار دیا۔
مسٹر مرز نے کہا، ’’کل صرف سیکسنی انہالٹ میں ہی تبدیلی نہیں آئی بلکہ پورے جرمنی میں تبدیلی آئی ہے۔ اس کے اثرات مرتب ہوں گے، جن میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اثرات بھی شامل ہیں۔‘‘
مسٹر مرز نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی اے ایف ڈی روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت کرنے کی مخالف ہے اور جماعت کے کئی رہنماؤں کے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جرمن آئین میں درج اقدار کا ہمیشہ دفاع کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ملک میں ان اقدار پر کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔ اقتدار دیا جاتا ہے، چھینا نہیں جاتا۔ اور اقلیت اکثریت کی دشمن نہیں ہوتی۔‘‘






