سرینگر؍یکم ستمبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میدانِ جنگ میں کوئی حل نہیں نکلتا اور تمام جنگوں اور تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
علاقائی تنظیم ایس سی او کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کی رسد کی لائنوں اور متعدد معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی موجودگی میں دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرنے پر بھی زور دیا۔
مودی نے کہا، ’’ہمیں ایک آواز میں کہنا ہوگا کہ دہشت گردی کے معاملے میں دوہرے معیار کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہوگا، جس میں اس کی مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندی کی طرف مائل کرنا اور محفوظ پناہ گاہیں شامل ہیں۔‘‘
وزیر اعظم کا یہ تبصرہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے بھارت کے خلاف حملوں کی پاکستان کی طویل عرصے سے جاری مبینہ حمایت کی جانب براہِ راست اشارہ تھا۔ گزشتہ سال جموں و کشمیر کے پہلگام میں پاکستان سے منسلک دہشت گردوں کے ہاتھوں سیاحوں کے قتل کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کی صورت میں بڑا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ بھارتی کروز میزائلوں اور ڈرونز نے پاکستان کے اندر دور تک واقع ان تنصیبات اور دہشت گردوں کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوجی اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون ہونا چاہیے، بشرطیکہ وہ دوسرے ممالک کے خودمختار علاقوں کا احترام کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چینی صدر اور پاکستانی وزیر اعظم دونوں کی موجودگی میں ایس سی او کا پلیٹ فارم اس معاملے پر بھارت کا باضابطہ موقف پیش کرنے کا سب سے براہِ راست ذریعہ تھا، بالخصوص ایسے وقت میں جب نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) سے گزر رہی ہے۔
سی پی ای سی سے مراد چین پاکستان اکنامک کوریڈور ہے، جو تقریباً۳۰۰۰ کلومیٹر طویل بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا مجوزہ نیٹ ورک ہے اور چین کے سنکیانگ خطے کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملاتا ہے۔
وزیر اعظم مودی کے یہ تبصرے اس لیے بھی اہم اور متعلقہ ہیں کہ ایس سی او کے بنیادی مقاصد میں باہمی اعتماد، دوستی اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو مضبوط بنانا، نیز مختلف شعبوں میں مؤثر اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔
۱۰ ارکان پر مشتمل ایس سی او۲۰۰۱ میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان نے قائم کی تھی۔ بھارت اور پاکستان۲۰۱۷ میں اس کے مکمل رکن بنے، جبکہ ایران نے۲۰۲۳؍اور بیلاروس نے۲۰۲۴ میں تنظیم کی مکمل رکنیت حاصل کی۔
اس مرتبہ ایس سی او سربراہی اجلاس کو وسیع تر ’’ایس سی او پلس‘‘ فارمیٹ میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ایک درجن سے زائد دیگر متعلقہ ممالک کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، آذربائیجان کے صدر الہام علییف، آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان، منگولیا کے صدر اوخناگین خورلسوخ، لاؤس کے صدر تھونگ لون سیسولیتھ اور ٹوگو کے صدر فاؤرے گناسنگبے شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)









