اتوار, اکتوبر 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

جموں و کشمیر کے گلیشیئرز بھی خطرے کی زد میں‘ ۲۷ گلیشیائی جھیلوں کوخطرہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-02
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
پانچ کشمیری گلیشیائی جھیلیں انتہائی زیادہ سیلابی خطرے کی حامل قرار
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍یکم ستمبر

                نیپال میں۲۶؍اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہمالیائی خطے میں گلیشیائی خطرات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارت میں بھی یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ ہمالیہ کے بھارتی حصے میں ایسے کون سے مقامات موجود ہیں جو اسی نوعیت کے قدرتی حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں، اور کیا موجودہ نگرانی کا نظام ان خطرات کی مؤثر طور پر نشاندہی کر رہا ہے؟

                بھارت میں گلیشیائی خطرات کی نگرانی کا نظام ۲۰۲۳ کے سکم سانحے کے بعد مزید وسعت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت ملک کی چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں واقع سیکڑوں بلند پہاڑی جھیلوں کی نگرانی دو قومی ادارے مختلف طریقوں سے کر رہے ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے، جہاں۲۷ گلیشیائی جھیلوں کو گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب(جی ایل او ایف)کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔

متعلقہ

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

                گلیشیائی جھیل پھٹنے کا سیلاب اس وقت آتا ہے جب کسی گلیشیئر کے پیچھے یا سامنے قدرتی طور پر بنی ایسی جھیل کا بند ٹوٹ جاتا ہے جو چٹانوں، ملبے اور برف سے بنا ہو۔ پانی کا اچانک اخراج پہاڑی علاقوں میں نچلے علاقوں، آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

                قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے جموں و کشمیر سمیت ہماچل پردیش، سکم، لداخ، اروناچل پردیش اور اتراکھنڈ میں مجموعی طور پر۱۹۵ گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جنہیںجی ایل او ایف کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

                ان میں۶۷ جھیلوں کو کیٹیگری’اے‘ یعنی انتہائی زیادہ خطرے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی برم سر جھیل بھی اسی انتہائی حساس کیٹیگری میں شامل ہے۔ مزید۴۸جھیلیں کیٹیگری’بی‘ یعنی زیادہ خطرے،۷۴  کیٹیگری ’سی‘ یعنی درمیانے درجے کے خطرے میں شامل ہیں، جبکہ چھ جھیلوں کی درجہ بندی ابھی نہیں کی گئی۔

                ریاستی و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے ہماچل پردیش میں۴۸ ، سکم میں۴۱ ، لداخ میں۳۴ ، اروناچل پردیش میں۳۲ ، جموں و کشمیر میں۲۷؍اور اتراکھنڈ میں۱۳ خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

                دوسری جانب سنٹرل واٹر کمیشن‘ جو وزارتِ جل شکتی کے تحت ملک کے آبی وسائل کی نگرانی کرتا ہے، اس سے کہیں وسیع پیمانے پر گلیشیائی جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر کی نگرانی کر رہا ہے۔ جون۲۰۲۶ کی اس کی نگرانی رپورٹ کے مطابق بھارتی ہمالیائی دریائی طاسوں میں۱۰  ہیکٹر سے زیادہ رقبے والی۲۸۴۳ گلیشیائی جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان میں۲۴۸۵ گلیشیائی جھیلیں ہیں، جبکہ۶۸۱ گلیشیائی جھیلیں بھارتی حدود میں واقع ہیں۔

                رپورٹ کے مطابق جون کے دوران بھارتی حدود میں موجود۱۴۷ گلیشیائی جھیلوں کے پانی کے پھیلاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انہیں مزید سخت نگرانی کے لیے نشان زد کیا گیا۔

                تاہم ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطرات صرف گلیشیائی جھیلوں تک محدود نہیں ہیں۔ برف، چٹان اور پانی کے بڑے پیمانے کا پہاڑی ڈھلوان سے اچانک نیچے آنا ایک الگ نوعیت کا خطرہ ہے، جس پر اب زیادہ منظم توجہ دی جا رہی ہے۔ نیپال کا حالیہ سانحہ اس وسیع تر خطرے کی ایک بار پھر سنگین یاد دہانی ہے۔

                جموں و کشمیر کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے میں۲۷ حساس گلیشیائی جھیلوں کی موجودگی ایک جامع اور مسلسل نگرانی، بروقت وارننگ سسٹم اور مقامی سطح پر مؤثر ڈیزاسٹر تیاری کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے ۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایس ایس بی کی۲۸۶۳؍اسامیوں  کیلئے آن لائن درخواستیں طلب

Next Post

 این سی کا جموں، سری نگر میں بی جے پی دفاتر کے گھیراؤ کا اعلان

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘
اہم ترین

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

2026-10-18
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
اہم ترین

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

2026-10-18
 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
اہم ترین

 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل

2026-10-18
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی ‘ جواب دہی یقینی بنانے پر زور

2026-10-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

 کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی موت کیس میں فرد جرم داخل

2026-10-18
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

جموں میں مبینہ منشیات فروش  گرفتار‘۳۸۵گرام ہیروئن برآمد

2026-10-18
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

مرکز نے لداخ کی پہاڑی  ترقیاتی کونسلوں کے ڈھانچے  اور انتخابی قواعد میں ترمیم کر دی

2026-10-18
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

آئی ٹی آئی اداروں کی جدید  کاری کیلئے۴۷۵ کروڑ روپے  منظوری پر عمر کا مرکزکا شکریہ

2026-10-18
Next Post
این سی کو ہل کے نشان پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کے فیصلے کیخلاف دائر ایپل مسترد

 این سی کا جموں، سری نگر میں بی جے پی دفاتر کے گھیراؤ کا اعلان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.